کامل شطاری

معراج بندگی کا وہی تو مقام ہے کامل شطاری

27 April 2026

17سپیکرز
145لسنرز

سپیکرز

امل خان کا پیش کردہ کلام

ہم وصل میں ایسے کھوئے گئے فرقت کا زمانا بھول گئے

ہم وصل میں ایسے کھوئے گئے فرقت کا زمانا بھول گئے ساحل کی خوشی میں موجوں کا طوفان اٹھانا بھول گئے آنکھوں میں جو صورت تھی ان کی غیروں سے چھپانا بھول گئے پھولوں کی محبت میں دامن کانٹوں سے بچانا بھول گئے دل رکھ تو لیا وعدہ کر کے اور وعدے پہ آنا بھول گئے یا یہ کہ محبت وہ نہ رہی یا ناز اٹھانا بھول گئے بیتابیٔ دل کے ہاتھوں سے توہین محبت ہو نہ سکی اچھا بھی ہوا جب وہ آئے ہم حال سنانا بھول گئے جب چاہنے والے ختم ہوئے اس وقت انہیں احساس ہوا اب یاد میں ان کی روتے ہیں ہنس ہنس کے رلانا بھول گئے جینا ہے ترے ہی قدموں میں مرنا ہے ترے ہی قدموں میں کیا خوب ہوا ہم در سے ترے سر اپنا اٹھانا بھول گئے کیوں نیچی نگاہوں سے مجھ کو پیمانہ دکھا کر ہنستے ہو آنکھیں تو ملا کر بات کرو نظروں سے پلانا بھول گئے یا تو نے نظر خیرہ کر دی اے برق تجلی یا ہم ہی دیدار میں اپنی آنکھوں کا احسان اٹھانا بھول گئے خود آپ نے اپنے کاملؔ کو دیوانہ بنا کر چھوڑا ہے اب ہوش اڑے کیوں جاتے ہیں کیا ہوش اڑانا بھول گئے

— کامل شطاری