افقر موہانی

ان سے میرے نصیب کا چکر بنا دیا افقر موہانی

20 January 2026

16سپیکرز
310لسنرز

سپیکرز

حماد ابراہیم کا پیش کردہ کلام

بیٹھا ہوں شمع عشق فروزاں کئے ہوئے

بیٹھا ہوں شمع عشق فروزاں کئے ہوئے اس سنگ در کو قبلہ ایماں کئے ہوئے دل ہے متاع درد کا ساماں کئے ہوئے تیر نگاہ یار کو مہماں کئے ہوئے تنکے ہیں آشیاں کے قفس کی ہیں تیلیاں آباد ہوں قفس کو گلستاں کئے ہوئے دیکھیں حریم ناز میں کب تک ہوں باریاب گزری ہے عمر منت درباں کئے ہوئے افقر نظر فریبی دنیا میں کیا کہوں ہوں دل کو وقف حسرت و ارماں کئے ہوئے

— افقر موہانی

وعدۂ وصل یار نے مارا

وعدۂ وصل یار نے مارا شدت انتظار نے مارا منفعل ہو کے یار نے مارا شکوۂ بار بار نے مارا نہ چھپا راز دل مگر نہ چھپا دیدۂ اشک بار نے مارا بن کے تقدیر راہ غربت میں جنبش چشم یار نے مارا وعدۂ بے وفا وفا نہ ہوا مجھ کو اس اعتبار نے مارا صدقے دل ایسی رازداری پر جس کو ہو رازدار نے مارا غمزۂ جانستاں معاذ اللہ شوخیٔ حسن یار نے مارا بڑھ گیا اور بھی جنوں افقرؔ آ کے فصل بہار نے مارا

— افقر موہانی