سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
امل خان
کو ہوسٹ
ثنا سوئٹ
کو ہوسٹ
نور مائیر
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
امل خان
انتظار حسین
ایم سعید
حسین بلوچ
حماد ابراہیم
راجا اکرام قمر
زاہدحسین
سحربیاں
سید جینٹلمین
شہزاد
فرح درویش
کریسنٹ
ملک
نایاب
ندیم بخاری
یادرفتگان
حماد ابراہیم کا پیش کردہ کلام
بیٹھا ہوں شمع عشق فروزاں کئے ہوئے
بیٹھا ہوں شمع عشق فروزاں کئے ہوئے اس سنگ در کو قبلہ ایماں کئے ہوئے دل ہے متاع درد کا ساماں کئے ہوئے تیر نگاہ یار کو مہماں کئے ہوئے تنکے ہیں آشیاں کے قفس کی ہیں تیلیاں آباد ہوں قفس کو گلستاں کئے ہوئے دیکھیں حریم ناز میں کب تک ہوں باریاب گزری ہے عمر منت درباں کئے ہوئے افقر نظر فریبی دنیا میں کیا کہوں ہوں دل کو وقف حسرت و ارماں کئے ہوئے
وعدۂ وصل یار نے مارا
وعدۂ وصل یار نے مارا شدت انتظار نے مارا منفعل ہو کے یار نے مارا شکوۂ بار بار نے مارا نہ چھپا راز دل مگر نہ چھپا دیدۂ اشک بار نے مارا بن کے تقدیر راہ غربت میں جنبش چشم یار نے مارا وعدۂ بے وفا وفا نہ ہوا مجھ کو اس اعتبار نے مارا صدقے دل ایسی رازداری پر جس کو ہو رازدار نے مارا غمزۂ جانستاں معاذ اللہ شوخیٔ حسن یار نے مارا بڑھ گیا اور بھی جنوں افقرؔ آ کے فصل بہار نے مارا