سپیکرز
نور مائیر کا پیش کردہ کلام
خوشی جانتے ہیں نہ غم جانتے ہیں
خوشی جانتے ہیں نہ غم جانتے ہیں جو ان کی رضا ہو وہ ہم جانتے ہیں جو کچھ چار تنکوں کو ہم جانتے ہیں وہ گلچین و صیاد کم جانتے ہیں تمہارے ہی جلووں کی ہم روشنی کو تجلیٔ دیر و حرم جانتے ہیں میں قاتل نہ محشر میں سمجھوں بھی تو کیا تمہیں سب خدا کی قسم جانتے ہیں مری خاک دل کا پتا بھی نہیں ہے وہ اتنے ستم کو بھی کم جانتے ہیں خدا کو خدا ہم سمجھتے ہیں واعظ مگر ہاں صنم کو صنم جانتے ہیں کریں گے نہ عرض تمنا کہ ہم خود محبت کا اپنی بھرم جانتے ہیں وہی کچھ سمجھتے ہیں اسرار ہستی جو ہستی کو اپنی عدم جانتے ہیں متاع دو عالم سمجھتے ہیں ہم بھی مگر چار تنکوں سے کم جانتے ہیں کہیں راز الفت بھی ہوتا ہے ظاہر کہیں کیوں جو کچھ تم کو ہم جانتے ہیں خدا کو وہی خوب پہچانتے ہیں تمہیں جو خدا کی قسم جانتے ہیں کھلی ہیں دم نزع آنکھیں جو افقرؔ ابھی تک وہ آنکھوں میں دم جانتے ہیں
خدائی مجھ کو مل جاتی خدائے دو جہاں ملتا
خدائی مجھ کو مل جاتی خدائے دو جہاں ملتا جو تم ملتے تو گویا حاصل کون و مکاں ملتا غلام ساقیٔ کوثر ہوں مے کی کیا کمی مجھ کو نہ ملتا گر یہاں ساغر مرا حصہ وہاں ملتا اسے کب کوئی پا سکتا اسے کیا دیکھتا کوئی نظر سے دور دل کی وسعتوں میں جو نہاں ملتا انہیں کب نیند آئی سنتے سنتے دل کا افسانہ یہی تھا وقت جب ان کو بھی لطف داستاں ملتا جلاتی ایک بجلی کیوں کر اتنے آشیانوں کو چمن کے پتے پتے پر ہمارا آشیاں ملتا ہمارے سجدۂ بے آستاں کا یہ کرشمہ تھا نہ ہوتا آستاں جس جا وہاں بھی آستاں ملتا وہاں دو چار سجدے تم بھی کر لو جا کے اے افقرؔ پئے سجدہ زمیں سے جس جگہ ہے آسماں ملتا