افقر موہانی

ان سے میرے نصیب کا چکر بنا دیا افقر موہانی

20 January 2026

16سپیکرز
310لسنرز

سپیکرز

شہزاد کا پیش کردہ کلام

اس کی نہیں خدائی کہ اس کا خدا نہیں

اس کی نہیں خدائی کہ اس کا خدا نہیں تم جس کو مل گئے اسے پھر کیا ملا نہیں سجدہ سے سر اٹھانے کو جی چاہتا نہیں اب یا تو ہم نہیں در دل دار یا نہیں اک پیکر خیال کی اللہ رے محویت میں خود بھی اب نگاہ میں اپنی رہا نہیں محشر نثار اس نگۂ شرمسار پر کہنا پڑا خدا سے یہ قاتل مرا نہیں وہ تنکے جب اٹھائے جلا ڈالے برق نے گلشن میں آشیاں کبھی اپنا بنا نہیں حد نگاہ کب تری رفعت کو پا سکے جلوہ ترا مقید ارض و سما نہیں درکار ہے نگاہ کرم ورنہ اے کریم میرے لیے خزانۂ قدرت میں کیا نہیں نظریں جدا جدا ہیں خیالات مختلف میری نظر سے کوئی نہیں دیکھتا نہیں اک وقفۂ حیات ہے دنیا ہے جس کا نام اتنی سی کائنات کو میں چاہتا نہیں اس اعتنا کی داد بھی اے بے نیاز خلق میرا سر نیاز کہیں پر جھکا نہیں اندازۂ جمال بقدر نگاہ ہے چشم کلیم جلوہ طراز ادا نہیں تو ہی بتا کہ جائے کہاں تجھ کو چھوڑ کر افقرؔ ترا گدا ہے کسی کا گدا نہیں

— افقر موہانی