افقر موہانی

ان سے میرے نصیب کا چکر بنا دیا افقر موہانی

20 January 2026

16سپیکرز
310لسنرز

سپیکرز

راجا اکرام قمر کا پیش کردہ کلام

شیشہ میں ہے شراب تو شیشہ شراب میں

شیشہ میں ہے شراب تو شیشہ شراب میں یعنی ہے آفتاب حد آفتاب میں سرزد ہوئے گناہ جو عہد شباب میں مالک مرے انہیں تو نہ رکھنا حساب میں عالم یہی رہا تو نگاہوں کا ذکر کیا نیت بھی ڈوب جائے گی جام شراب میں اے برق کیا ہمیں کو مٹانا چمن میں تھا تھا اور آشیاں نہ کوئی انتخاب میں افقرؔ یہ سب ہیں ان کے تبسم کی شوخیاں رنگینیاں جو بن گئیں موج شراب میں

— افقر موہانی

سامنے اس بت کے جب جانا پڑا

سامنے اس بت کے جب جانا پڑا کفر پر ایماں مجھے لانا پڑا بہر درماں ان کو جب آنا پڑا درد دل کو اور بڑھ جانا پڑا پھر بھی کب سمجھا فریب حسن کو دل کو لاکھوں بار سمجھانا پڑا جیتے جی دیدار جاناں تھا محال زندگی میں مجھ کو مر جانا پڑا کوئے جاناں کوچۂ جاناں تھا پھر جنت واعظ کو ٹھکرانا پڑا ہو چکا نذرانہ جب دل حسن کا پھر جگر کو سامنے لانا پڑا زندگی میں جب نہ افقرؔ آئے وہ زندگی کو موت بن جانا پڑا

— افقر موہانی