افقر موہانی

ان سے میرے نصیب کا چکر بنا دیا افقر موہانی

20 January 2026

16سپیکرز
310لسنرز

سپیکرز

ایم سعید کا پیش کردہ کلام

شب فراق ہمارا وہ نیم جاں ہونا

شب فراق ہمارا وہ نیم جاں ہونا اجل کا آپ ہی گھر میں وہ مہماں ہونا خفا نہ سن کے مرا حال مہرباں ہونا کہ اس بیان کو اک دن ہے داستاں ہونا دیار حسن کی سرگرمیاں معاذ اللہ ہر اک قدم پہ محبت کا امتحاں ہونا کوئی ستم ہو یہیں سے شروع ہوتا ہے غضب ہے کوچۂ جاناں کا آسماں ہونا اجل سے پہلے صبا لے اڑی سر منزل کہاں پہ آیا ہے کام اپنا ناتواں ہونا اٹھا وہ درد کلیجہ میں وہ گرے آنسو نہیں ہے کھیل محبت کا رازداں ہونا نگاہ قہر کبھی اور کبھی کرم کی نظر انہیں اداؤں کا مل جل کے داستاں ہونا وہ کیا کرے نہ مٹے گر تری محبت میں لکھا ہو جس کے مقدر میں بے نشاں ہونا ابھی نہ شاد ہو تکمیل عشق پر افقرؔ ابھی ہے ترک محبت کا امتحاں ہونا

— افقر موہانی

سنی تو اس نے غیروں سے ہوا گو بد گماں ہم سے

سنی تو اس نے غیروں سے ہوا گو بد گماں ہم سے بہر صورت رہی بہتر ہماری داستاں ہم سے زباں پر آئے گی کیا پاس ناموس محبت سے نہیں دہرائی جاتی دل میں اپنی داستاں ہم سے چنے تھے چار تنکے ایک دن صحن گلستاں میں رہا تا زندگی برہم مزاج باغباں ہم سے دہائی ہے غم مجبوریٔ امکاں دہائی ہے کہ پھرتی ہیں دم رحلت ہماری پتلیاں ہم سے سبک سر رہ چکے ہیں ہم بھی دنیا میں کبھی لیکن یہ ذکر اس وقت کا ہے آپ جب تھے سرگراں ہم سے قفس ہی ہو گیا طول اسیری سے نشیمن جب نہ چھوٹے آشیاں سے ہم نہ چھوٹا آشیاں ہم سے زمانہ دوسری کروٹ بدلتا بھی تو کیا ہوتا بدل جاتی نہ افتاد زمین و آسماں ہم سے بہار آنے سے پہلے اک پریشاں خواب دیکھا تھا کہ جیسے فصل گل میں چھٹ رہا ہے آشیاں ہم سے زمانہ سازیاں قرباں مآل اندیشیاں صدقے وہ سننے آج بیٹھے ہیں ہماری داستاں ہم سے مدد اے لذت ذوق اسیری اب یہ حسرت ہے قفس والے بدل لیتے ہمارا آشیاں ہم سے تصور میں کھنچا نقشہ ہے ان کے روئے رنگیں کا بظاہر پردۂ دل میں ہیں افقرؔ وہ نہاں ہم سے

— افقر موہانی