سپیکرز
ایم سعید کا پیش کردہ کلام
شب فراق ہمارا وہ نیم جاں ہونا
شب فراق ہمارا وہ نیم جاں ہونا اجل کا آپ ہی گھر میں وہ مہماں ہونا خفا نہ سن کے مرا حال مہرباں ہونا کہ اس بیان کو اک دن ہے داستاں ہونا دیار حسن کی سرگرمیاں معاذ اللہ ہر اک قدم پہ محبت کا امتحاں ہونا کوئی ستم ہو یہیں سے شروع ہوتا ہے غضب ہے کوچۂ جاناں کا آسماں ہونا اجل سے پہلے صبا لے اڑی سر منزل کہاں پہ آیا ہے کام اپنا ناتواں ہونا اٹھا وہ درد کلیجہ میں وہ گرے آنسو نہیں ہے کھیل محبت کا رازداں ہونا نگاہ قہر کبھی اور کبھی کرم کی نظر انہیں اداؤں کا مل جل کے داستاں ہونا وہ کیا کرے نہ مٹے گر تری محبت میں لکھا ہو جس کے مقدر میں بے نشاں ہونا ابھی نہ شاد ہو تکمیل عشق پر افقرؔ ابھی ہے ترک محبت کا امتحاں ہونا
سنی تو اس نے غیروں سے ہوا گو بد گماں ہم سے
سنی تو اس نے غیروں سے ہوا گو بد گماں ہم سے بہر صورت رہی بہتر ہماری داستاں ہم سے زباں پر آئے گی کیا پاس ناموس محبت سے نہیں دہرائی جاتی دل میں اپنی داستاں ہم سے چنے تھے چار تنکے ایک دن صحن گلستاں میں رہا تا زندگی برہم مزاج باغباں ہم سے دہائی ہے غم مجبوریٔ امکاں دہائی ہے کہ پھرتی ہیں دم رحلت ہماری پتلیاں ہم سے سبک سر رہ چکے ہیں ہم بھی دنیا میں کبھی لیکن یہ ذکر اس وقت کا ہے آپ جب تھے سرگراں ہم سے قفس ہی ہو گیا طول اسیری سے نشیمن جب نہ چھوٹے آشیاں سے ہم نہ چھوٹا آشیاں ہم سے زمانہ دوسری کروٹ بدلتا بھی تو کیا ہوتا بدل جاتی نہ افتاد زمین و آسماں ہم سے بہار آنے سے پہلے اک پریشاں خواب دیکھا تھا کہ جیسے فصل گل میں چھٹ رہا ہے آشیاں ہم سے زمانہ سازیاں قرباں مآل اندیشیاں صدقے وہ سننے آج بیٹھے ہیں ہماری داستاں ہم سے مدد اے لذت ذوق اسیری اب یہ حسرت ہے قفس والے بدل لیتے ہمارا آشیاں ہم سے تصور میں کھنچا نقشہ ہے ان کے روئے رنگیں کا بظاہر پردۂ دل میں ہیں افقرؔ وہ نہاں ہم سے