سپیکرز
زاہدحسین کا پیش کردہ کلام
خدا ہی جانے کہ ہے یا تہہ مزار نہیں
خدا ہی جانے کہ ہے یا تہہ مزار نہیں وہ بیقرار جسے مر کے بھی قرار نہیں نگاہ یار مگر اب بھی شرمسار نہیں کہ ایک عرض تمنا پہ لاکھ بار نہیں تجلیوں نے مجھے پہلے کر دیا بے خود جب آیہ ہوش تو دیکھا جمال یار نہیں نہ پوچھ میرے دل غمزدہ کا حال نہ پوچھ یہ وہ چمن ہے جو شرمندۂ بہار نہیں مٹائے جا مری ہستی مٹائے جا لیکن رہے خیال زمانہ کا اعتبار نہیں جبین شوق نہ سجدے میں اتنی کر سبقت ہر ایک نقش قدم نقش پائے یار نہیں تمہارے وعدہ کا ہو لاکھ اعتبار مگر وہ کیا کرے جسے قسمت پہ اعتبار نہیں کلیم ہوش میں آؤ ملاؤ نظروں کو یہ موقع ہاتھ پھر آنے کا بار بار نہیں نہیں جو میرے گناہوں کا کچھ حساب افقرؔ قسم ہے رحمت حق کا بھی کچھ شمار نہیں
حجاب جسم و جاں میں حسن پنہاں دیکھ لیتے ہیں
حجاب جسم و جاں میں حسن پنہاں دیکھ لیتے ہیں نظر والے تمہیں تا حد امکاں دیکھ لیتے ہیں اسیر زلف ہو کر روئے جاناں دیکھ لیتے ہیں سواد کفر میں بھی نور ایماں دیکھ لیتے ہیں زمانہ میرا حاصل ہے میں حاصل ہوں زمانہ کا جو اہل بزم ہیں محفل کا ساماں دیکھ لیتے ہیں ہمارے ڈوبنے کا واقعہ جب یاد آتا ہے جو ساحل پر بھی ہیں ساحل کا داماں دیکھ لیتے ہیں دل اس پر آرزو آسودہ ہو جاتا ہے دنیا سے کبھی گر منظر گور غریباں دیکھ لیتے ہیں گزرتے ہیں جناب شیخ جب مے خانہ سے ہو کر نہیں کہتے زباں سے کچھ مگر ہاں دیکھ لیتے ہیں ترا ہی جلوہ گو دیر و حرم دونوں میں ہے لیکن جو اہل دل ہیں فرق کفر و ایماں دیکھ لیتے ہیں زمیں سے آسماں سے گو کہیں بجلی گرے لیکن اسیران قفس سوئے گلستاں دیکھ لیتے ہیں پہنچ جاتے ہیں ہم افقرؔ وہاں ذوق طبیعت سے جو شایان ادب بزم سخنداں دیکھ لیتے ہیں
میں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہے
میں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہے سر آئینہ مرا عکس ہے پس آئینہ کوئی اور ہے میں کسی کے دست طلب میں ہوں تو کسی کے حرف دعا میں ہوں میں نصیب ہوں کسی اور کا مجھے مانگتا کوئی اور ہے عجب اعتبار و بے اعتباری کے درمیان ہے زندگی میں قریب ہوں کسی اور کے مجھے جانتا کوئی اور ہے مری روشنی ترے خد و خال سے مختلف تو نہیں مگر تو قریب آ تجھے دیکھ لوں تو وہی ہے یا کوئی اور ہے تجھے دشمنوں کی خبر نہ تھی مجھے دوستوں کا پتا نہیں تری داستاں کوئی اور تھی مرا واقعہ کوئی اور ہے وہی منصفوں کی روایتیں وہی فیصلوں کی عبارتیں مرا جرم تو کوئی اور تھا پہ مری سزا کوئی اور ہے کبھی لوٹ آئیں تو پوچھنا نہیں دیکھنا انہیں غور سے جنہیں راستے میں خبر ہوئی کہ یہ راستہ کوئی اور ہے جو مری ریاضت نیم شب کو سلیمؔ صبح نہ مل سکی تو پھر اس کے معنی تو یہ ہوئے کہ یہاں خدا کوئی اور ہے