افقر موہانی

ان سے میرے نصیب کا چکر بنا دیا افقر موہانی

20 January 2026

16سپیکرز
310لسنرز

سپیکرز

زاہدحسین کا پیش کردہ کلام

خدا ہی جانے کہ ہے یا تہہ مزار نہیں

خدا ہی جانے کہ ہے یا تہہ مزار نہیں وہ بیقرار جسے مر کے بھی قرار نہیں نگاہ یار مگر اب بھی شرمسار نہیں کہ ایک عرض تمنا پہ لاکھ بار نہیں تجلیوں نے مجھے پہلے کر دیا بے خود جب آیہ ہوش تو دیکھا جمال یار نہیں نہ پوچھ میرے دل غمزدہ کا حال نہ پوچھ یہ وہ چمن ہے جو شرمندۂ بہار نہیں مٹائے جا مری ہستی مٹائے جا لیکن رہے خیال زمانہ کا اعتبار نہیں جبین شوق نہ سجدے میں اتنی کر سبقت ہر ایک نقش قدم نقش پائے یار نہیں تمہارے وعدہ کا ہو لاکھ اعتبار مگر وہ کیا کرے جسے قسمت پہ اعتبار نہیں کلیم ہوش میں آؤ ملاؤ نظروں کو یہ موقع ہاتھ پھر آنے کا بار بار نہیں نہیں جو میرے گناہوں کا کچھ حساب افقرؔ قسم ہے رحمت حق کا بھی کچھ شمار نہیں

— افقر موہانی

حجاب جسم و جاں میں حسن پنہاں دیکھ لیتے ہیں

حجاب جسم و جاں میں حسن پنہاں دیکھ لیتے ہیں نظر والے تمہیں تا حد امکاں دیکھ لیتے ہیں اسیر زلف ہو کر روئے جاناں دیکھ لیتے ہیں سواد کفر میں بھی نور ایماں دیکھ لیتے ہیں زمانہ میرا حاصل ہے میں حاصل ہوں زمانہ کا جو اہل بزم ہیں محفل کا ساماں دیکھ لیتے ہیں ہمارے ڈوبنے کا واقعہ جب یاد آتا ہے جو ساحل پر بھی ہیں ساحل کا داماں دیکھ لیتے ہیں دل اس پر آرزو آسودہ ہو جاتا ہے دنیا سے کبھی گر منظر گور غریباں دیکھ لیتے ہیں گزرتے ہیں جناب شیخ جب مے خانہ سے ہو کر نہیں کہتے زباں سے کچھ مگر ہاں دیکھ لیتے ہیں ترا ہی جلوہ گو دیر و حرم دونوں میں ہے لیکن جو اہل دل ہیں فرق کفر و ایماں دیکھ لیتے ہیں زمیں سے آسماں سے گو کہیں بجلی گرے لیکن اسیران قفس سوئے گلستاں دیکھ لیتے ہیں پہنچ جاتے ہیں ہم افقرؔ وہاں ذوق طبیعت سے جو شایان ادب بزم سخنداں دیکھ لیتے ہیں

— افقر موہانی

میں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہے

میں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہے سر آئینہ مرا عکس ہے پس آئینہ کوئی اور ہے میں کسی کے دست طلب میں ہوں تو کسی کے حرف دعا میں ہوں میں نصیب ہوں کسی اور کا مجھے مانگتا کوئی اور ہے عجب اعتبار و بے اعتباری کے درمیان ہے زندگی میں قریب ہوں کسی اور کے مجھے جانتا کوئی اور ہے مری روشنی ترے خد و خال سے مختلف تو نہیں مگر تو قریب آ تجھے دیکھ لوں تو وہی ہے یا کوئی اور ہے تجھے دشمنوں کی خبر نہ تھی مجھے دوستوں کا پتا نہیں تری داستاں کوئی اور تھی مرا واقعہ کوئی اور ہے وہی منصفوں کی روایتیں وہی فیصلوں کی عبارتیں مرا جرم تو کوئی اور تھا پہ مری سزا کوئی اور ہے کبھی لوٹ آئیں تو پوچھنا نہیں دیکھنا انہیں غور سے جنہیں راستے میں خبر ہوئی کہ یہ راستہ کوئی اور ہے جو مری ریاضت نیم شب کو سلیمؔ صبح نہ مل سکی تو پھر اس کے معنی تو یہ ہوئے کہ یہاں خدا کوئی اور ہے

— سلیم کوثر