سپیکرز
سید جینٹلمین کا پیش کردہ کلام
صبا کو فکر ہے کعبہ نیا بنانے کی
صبا کو فکر ہے کعبہ نیا بنانے کی کہ جمع کرتی ہے خاک ان کے آستانہ کی فلک کو ضد ہے نشیمن مرا مٹانے کی چمن میں دھن ہے مجھے آشیاں بنانے کی زمیں پہ لالہ و گل سے ہے ابتدائے بیاں شفق ہے آخری سرخی مرے فسانے کی اسی سے نکلے گا تعمیر کا بھی اک پہلو ضرور چاہیے تخریب آشیانے کی ہزار جلوۂ بے رنگ صد متاع نظر نہیں ہے حسن کو حاجت نقاب اٹھانے کی کھلا یہ راز کہ تھیں کس قدر فریب نظر اجل کے بھیس میں رنگینیاں زمانے کی اسیرو کر لو نشیمن کا آخری ماتم قفس میں آئی ہے خاک اڑ کے آشیانے کی سنی تھی وسعت دنیا کی داستاں ہم نے مگر ملی نہ جگہ آشیاں بنانے کی یہ کہہ کے پلٹے ہیں دنیا کے دیکھنے والے کہ یہ جگہ نہیں واللہ دل لگانے کی بنا بہار میں اجڑا خزاں میں اے افقرؔ حقیقت اتنی ہی بس اپنے آشیانے کی
محشر کا اعتبار ہوا ہے کبھی کبھی
محشر کا اعتبار ہوا ہے کبھی کبھی بے پردہ حسن یار ہوا ہے کبھی کبھی رقصاں جمال یار ہوا ہے کبھی کبھی پردہ میں انتشار ہوا ہے کبھی کبھی پہنچی ہے خاک عاشق برباد عرش پر اونچا اگر غبار ہوا ہے کبھی کبھی زاہد طواف کرتے ہیں اس آستاں کا ہم کعبہ میں جو شمار ہوا ہے کبھی کبھی پیماں شکن کے وعدہ کے ہم راہ اے اجل تیرا بھی انتظار ہوا ہے کبھی کبھی اک سجدہ وہ بھی بے خودیٔ اضطراب میں اس آستاں پہ بار ہوا ہے کبھی کبھی دامان تنگ و جوش بہاراں کو دیکھ کر اندازۂ بہار ہوا ہے کبھی کبھی وہ خود ہی راز بن گیا دنیا کے واسطے جو اس کا رازدار ہوا ہے کبھی کبھی جیسے وہ آئے بیٹھے بھی اٹھ کر چلے گئے اس درجہ اعتبار ہوا ہے کبھی کبھی وحدت پرستیوں سے بھی افقرؔ خدا گواہ برہم مزاج یار ہوا ہے کبھی کبھی
اب کیا بتاؤں درد کہاں تھا کہاں نہ تھا
اب کیا بتاؤں درد کہاں تھا کہاں نہ تھا پوچھی وہ بات یار نے جس کا گماں نہ تھا اس سے زیادہ حاصل عمر رواں نہ تھا تیرا نشاں جو پایا تو اپنا نشاں نہ تھا دنیا ہو یا ہجوم قیامت ہو یا کہ حشر تیرے خراب عشق کا چرچا کہاں نہ تھا دیکھی قفس سے جا کے چمن میں جفائے چرخ سب کے تو آشیاں تھے مرا آشیاں نہ تھا آتا نظر تھا دور سے نزدیک کارواں نزدیک ہم ہوئے تو کہیں کارواں نہ تھا آیا نظر نہ پھر بھی جہاں میں کسی کو تو ہر چند تیرے جلوے سے خالی جہاں نہ تھا کیسی بہار کس کا چمن فصل گل تھی کیا دنیا نظر میں ہیچ تھی جب آشیاں نہ تھا بے پردہ اس طرح کبھی حاصل تھا لطف دید ہستی کا بھی حجاب مرے درمیاں نہ تھا بجلی پہ کی نظر تو فلک پر تھی جا چکی دیکھا جو آشیاں کی طرف آشیاں نہ تھا ہر ذرۂ جہاں پہ تھا آباد اک جہاں ہستی کا کوئی ذرہ بھی تو رائیگاں نہ تھا افقرؔ مآل ہستیٔ فانی تھا بس یہی کل تک تھا نام آج لحد کا نشاں نہ تھا