افقر موہانی

ان سے میرے نصیب کا چکر بنا دیا افقر موہانی

20 January 2026

16سپیکرز
310لسنرز

سپیکرز

ایمان کا پیش کردہ کلام

شراب پی کے بھی مست شراب ہو نہ سکا

شراب پی کے بھی مست شراب ہو نہ سکا ترا خراب محبت خراب ہو نہ سکا اسی پہ ختم ہیں ناکامیاں زمانہ کی تری جناب میں جو کامیاب ہو نہ سکا تری عطا کے تصدق ترے کرم کے نثار گناہ گار تھا لیکن عذاب ہو نہ سکا وفور حسن کی وہ شوخیاں معاذ اللہ شباب تابع عہد شباب ہو نہ سکا خراب عشق ترا ہو کے ساری دنیا میں کسی کا بھی دل خانہ خراب ہو نہ سکا اٹھی نہ عرض تمنا پہ خشمگیں ہو کر تری نگاہ کا مجھ پر عتاب ہو نہ سکا ہزار رنگ تھے لیکن تھا ایک ہی جلوہ کمال حسن کا تیرے جواب ہو نہ سکا دلیل پستی اوج فلک ہے یہ افقرؔ کہ خاک بوس در بو تراب ہو نہ سکا

— افقر موہانی

ضو فشاں سینہ میں سوز غم پنہاں نکلا

ضو فشاں سینہ میں سوز غم پنہاں نکلا دل کا ہر داغ چراغ تہ داماں نکلا کوئی بھی جب نہ انیس شب ہجراں نکلا درد دل خود ہی مرے حال کا پرساں نکلا جستجو میں تری اے جلوہ نمائے ہستی کوئی کافر تو کوئی بن کے مسلماں نکلا مغفرت کو ہے مرے نامۂ اعمال پہ ناز جب نہ مجھ سا کوئی آسودۂ عصیاں نکلا پوچھتا کیا ہے حقیقت مرے جذب دل کی دل کے ہر قطرہ میں سمٹا ہوا طوفاں نکلا کتنا وابستہ اسیری سے تھا دور ہستی مر کے زنداں سے اسیر در زنداں نکلا میں نے جس سنگ پہ سجدہ کیا جذب دل سے وہ بھی منجملۂ سنگ در جاناں نکلا اس طرح ختم ہوئی جبر و قدر کی حجت میری تقدیر سے ساحل پہ بھی طوفاں نکلا بخیہ گر نے مری جب جامہ دری کو دیکھا چاک دامن کی جگہ چاک گریباں نکلا غم نہیں ساحل دریا کی تنک ظرفی کا ڈوبنے والا تو آسودۂ طوفاں نکلا سختئ حشر و قیامت مجھے واعظ تسلیم اور جو واں بھی نہ جواب غم جاناں نکلا رفعت چرخ ہو یا ہو وہ زمیں کی وسعت حامل بار امانت فقط انساں نکلا ہو چکا جامۂ وحشی کا رفو اے افقرؔ ابھی دامن نہ سیا تھا کہ گریباں نکلا

— افقر موہانی