سپیکرز
ایمان کا پیش کردہ کلام
شراب پی کے بھی مست شراب ہو نہ سکا
شراب پی کے بھی مست شراب ہو نہ سکا ترا خراب محبت خراب ہو نہ سکا اسی پہ ختم ہیں ناکامیاں زمانہ کی تری جناب میں جو کامیاب ہو نہ سکا تری عطا کے تصدق ترے کرم کے نثار گناہ گار تھا لیکن عذاب ہو نہ سکا وفور حسن کی وہ شوخیاں معاذ اللہ شباب تابع عہد شباب ہو نہ سکا خراب عشق ترا ہو کے ساری دنیا میں کسی کا بھی دل خانہ خراب ہو نہ سکا اٹھی نہ عرض تمنا پہ خشمگیں ہو کر تری نگاہ کا مجھ پر عتاب ہو نہ سکا ہزار رنگ تھے لیکن تھا ایک ہی جلوہ کمال حسن کا تیرے جواب ہو نہ سکا دلیل پستی اوج فلک ہے یہ افقرؔ کہ خاک بوس در بو تراب ہو نہ سکا
ضو فشاں سینہ میں سوز غم پنہاں نکلا
ضو فشاں سینہ میں سوز غم پنہاں نکلا دل کا ہر داغ چراغ تہ داماں نکلا کوئی بھی جب نہ انیس شب ہجراں نکلا درد دل خود ہی مرے حال کا پرساں نکلا جستجو میں تری اے جلوہ نمائے ہستی کوئی کافر تو کوئی بن کے مسلماں نکلا مغفرت کو ہے مرے نامۂ اعمال پہ ناز جب نہ مجھ سا کوئی آسودۂ عصیاں نکلا پوچھتا کیا ہے حقیقت مرے جذب دل کی دل کے ہر قطرہ میں سمٹا ہوا طوفاں نکلا کتنا وابستہ اسیری سے تھا دور ہستی مر کے زنداں سے اسیر در زنداں نکلا میں نے جس سنگ پہ سجدہ کیا جذب دل سے وہ بھی منجملۂ سنگ در جاناں نکلا اس طرح ختم ہوئی جبر و قدر کی حجت میری تقدیر سے ساحل پہ بھی طوفاں نکلا بخیہ گر نے مری جب جامہ دری کو دیکھا چاک دامن کی جگہ چاک گریباں نکلا غم نہیں ساحل دریا کی تنک ظرفی کا ڈوبنے والا تو آسودۂ طوفاں نکلا سختئ حشر و قیامت مجھے واعظ تسلیم اور جو واں بھی نہ جواب غم جاناں نکلا رفعت چرخ ہو یا ہو وہ زمیں کی وسعت حامل بار امانت فقط انساں نکلا ہو چکا جامۂ وحشی کا رفو اے افقرؔ ابھی دامن نہ سیا تھا کہ گریباں نکلا