سپیکرز
ثنا سوئٹ کا پیش کردہ کلام
کچھ عجب یہ بارگاہ عشق کا دستور ہے
کچھ عجب یہ بارگاہ عشق کا دستور ہے جتنا جو مختار ہے اتنا ہی وہ مجبور ہے موت پر قدرت ہے جینے کا نہیں مقدور ہے تو ہی درد دل بتا اب کیا تجھے منظور ہے ہو کے مختار اختیار خیر و شر سے دور ہے اتنی قدرت پر بھی انساں کس قدر مجبور ہے کتنا پر حیرت ہے منظر آستان یار کا دور سے نزدیک تر نزدیک سے پھر دور ہے لذت ذوق اسیری ہے اسیری کا سبب ورنہ چاہیں تو قفس سے آشیاں کیا دور ہے گم ہوا ہوں شوق منزل میں کچھ اس انداز سے یہ نہیں معلوم منزل مجھ سے کتنی دور ہے وہ تصور سے نہ جائیں جان جائے یار ہے مجھ کو یہ بھی بے خودیٔ عشق میں منظور ہے ایک وہ ہیں جن کی طوفاں میں ہے ساحل پر نظر ڈوبنے والے کو ساحل سے بھی ساحل دور ہے کس سے ہو افقرؔ امید چارہ سازی دہر میں جو بھی اس دنیا میں ہے مجبور ہے مجبور ہے کچھ عجب یہ بارگاہ عشق کا دستور ہے جتنا جو مختار ہے اتنا ہی وہ مجبور ہے
مکاں چھوڑ کر لا مکاں دیکھتے ہیں
مکاں چھوڑ کر لا مکاں دیکھتے ہیں کہاں وہ ہیں اور ہم کہاں دیکھتے ہیں تعین کا ہر آستاں دیکھتے ہیں جہاں تم نہیں ہم وہاں دیکھتے ہیں اٹھا لیتے ہیں ہم بھی دو چار تنکے جو بنتے کوئی آشیاں دیکھتے ہیں قفس میں اسیروں پہ گرتی ہے بجلی چمن سے جو اٹھتے دھواں دیکھتے ہیں نہیں دیکھتے کچھ مگر اہل محشر مجھے یا مری داستاں دیکھتے ہیں حقیقت میں دیر و حرم ایک ہیں جب تجھے دونوں کے درمیاں دیکھتے ہیں یہ آہیں ہیں میری یہ نالے ہیں میرے جنہیں آسماں آسماں دیکھتے ہیں در یار ہے پھر در یار افقرؔ جناں کو بہ حد جناں دیکھتے ہیں
اجل نے لوٹ لیا آ کے کاروان حیات
اجل نے لوٹ لیا آ کے کاروان حیات سنا رہا ہوں زمانہ کو داستان حیات ہزاروں کروٹیں بدلیں زمانہ نے لیکن اٹھے نہ خواب تغافل سے خفتگان حیات رہا نہ پیری میں جب کچھ بھی زندگی کا مزہ سحر کے وقت چلے اٹھ کے مہمان حیات رہ عدم کی وہ دشواریاں معاذ اللہ کہ مر کے پہنچے ہیں منزل پہ رہروان حیات بہار جلوہ گہہ یار تیرا کیا کہنا عدم سے آئے ہیں ہستی میں طالبان حیات یہی بلندی و پستی ہے بس زمانہ کی ہے اک زمین حیات ایک آسمان حیات کسی طرح بھی تلافیٔ زیست ہو نہ سکی قضا کے سر پہ رہا خون کشتگان حیات کھلا نہ غنچۂ دل باغ دہر میں افقرؔ خزاں نصیب رہا اپنا گلستان حیات