کلامِ شاعر
- 01 نعت
- 02 مجھے میری زندگی ذرا آزما رہی ہے، مجھے خبر ہے
- 03 اداس راہوں کا ہوں مسافر، اداس رستوں پہ چل رہا ہوں
- 04 مجھے زندگی میں قدم قدم پہ تری رضا کی تلاش ہے
- 05 سیاہ راتوں کے سب مسافر کبھی تو وقتِ سحر میں ہوں گے
- 06 ہر حسین چہرے سے عاشقی نہیں ہوتی
- 07 کئی قصے کئی یادیں پرانی چھوڑ جاتا ہے
- 08 مشورے خود کو دیے جاتا ہوں
- 09 مری وفا پہ ترا اعتبار ختم ہوا
- 10 جب وصل کے دن رہ چار گئے
- 11 ہر طرف غم کی حکمرانی ہے
- 12 مجھے تنہا ہی رہنا ہے
- 13 کسی سے کوئی شکوہ اور نہ کوئی آرزو کرنا
- 14 نظاروں سے بہاروں سے مجھے کچھ بھی نہیں لینا
- 15 میں تو صحراؤں کا مسافر ہوں
- 16 میں ٹوٹ کر پھربکھر گیا ہوں جو ہو سکے تو اسے بتادو
- 17 تری خواہش مرے صیاد پوری ہونے والی ہے
- 18 ہر ایک پل اضطراب میں ہوں
- 19 آرزو بے لباس لگتی ہے
- 20 میں اس کی سنگدلی سمجھا نہیں تھا
- 21 مجھے مری زندگی ذرا آزما رہی ہے مجھے خبر ہے
- 22 جانے والوں کو لوٹ جانا ہے
- 23 حق محبت کا کیا ادا کرتا
- 24 نگاہ تھک ہی گئی انتظار کرکرکے
- 25 اگر یہ وقت تھم جائے
- 26 آگ سے جو کچھ بھی پانی نے کیا
- 27 حق کو حق کہنے کا ہم نے یہ اثر دیکھا ہے
- 28 مجھے لگنے لگا ہے زندگی کا یہ سفر دھوکہ
- 29 ایک تماشہ صبح و شام تو ہونا تھا
- 30 بلند اڑان نئے بال و پر تلاش کرو
- 31 سینے سے اسنے دل کو دیا ہے نکال کر
- 32 تجزیہ کیا جب بھی باربار لوگوں کا
- 33 یوں نصیب اپنا سو گیا احمد
- 34 اے ستم گر تو ابھی واقف حالات نہیں
- 35 رات کا وقت ہے، سناٹا ہے، اندھیرا ہے
- 36 دن میں سورج سا جل رہا تھا میں
- 37 دیا اُس نے حکم سفر میں اکیلا
- 38 میرے گھر کے آنگن میں خامشی کا ڈیرہ ہے
- 39 یہ دستور زمانہ ہے، زمانہ چھوڑ دیتا ہے
- 40 کرب کا سمندر ہے
- 41 ہیں سوال و جواب پر پہرے
- 42 یہ خوشخبری ہے یا اک سانحہ ہے
- 43 اب تو ہر خواب پریشان ہوا جاتا ہے
- 44 بکھر گئے میرے خواب سارے
- 45 عام تھا مجھ کو خاص کر ڈالا
- 46 تیری آنکھ کا ایک اشارہ ہوتا ہے
- 47 زندگی کو اگر سمجھنا ہے
- 48 باغ کی شاخوں میں پھر خم آ جائے گا
- 49 گر ارادہ ہے ساتھ چلنے کا
- 50 غموں سے بھری اک کتاب ہے محبت
- 51 دولت نے ہرایا نہ وزیروں نے ہرایا
- 52 جب سے ہارے دکھائی دیتے ہیں
- 53 ہر طرف اضطراب دیکھا ہے
- 54 تیری راہ تک رہی ہیں میری بیقرار آنکھیں
- 55 دعا
- 56 رابطے سب بحال رکھے ہیں
- 57 وفا کے وعدے جو کرگیا تھا
- 58 وہ جو چپ کی زبان رکھتا تھا
- 59 اس کو دیکھا تو میری آنکھ سے برسے آنسو
- 60 دل کی بستی اجڑ گئی لوگو
- 61 حق کو حق کہنے کا ہم نے یہ اثر دیکھا ہے
- 62 ہر طرف اضطراب دیکھاہے
- 63 داغ گر چاند کا دنیا کو نظر آ جاتا