آزاد گلاٹی

آج ان آنکھوں میں دیکھا تو ملا دشت خلا آزاد گلاٹی

19 April 2026

23سپیکرز
212لسنرز

سپیکرز

غلام الدین کا پیش کردہ کلام

عمر بھر چلتے رہے ہم وقت کی تلوار پر

عمر بھر چلتے رہے ہم وقت کی تلوار پر پرورش پائی ہے اپنے خون ہی کی دھار پر چاہنے والے کی اک غلطی سے برہم ہو گیا فخر تھا کتنا اسے خود پیار کے معیار پر رات گہری میری تنہائی کا ساگر اور پھر تیری یادوں کے سلگتے دیپ ہر منجدھار پر شام آئی اور سب شاخوں کی گلیاں سو گئیں موت کا سایا سا منڈلانے لگا اشجار پر خلوت شب میں یہ اکثر سوچتا کیوں ہوں کہ چاند نور کا بوسہ ہے گویا رات کے رخسار پر سال نو آتا ہے تو محفوظ کر لیتا ہوں میں کچھ پرانے سے کلینڈر ذہن کی دیوار پر زندگی آزاد پہلے یوں کبھی تنہا نہ تھی آدمی بہتا تھا یوں ہی وقت کی رفتار پر

— آزاد گلاٹی