سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
ثنا سوئٹ
کو ہوسٹ
ریبل
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
امل خان
ایم سعید
پرشانت
تبو
جاسمین
حرااعوان
حسن سید
حماد ابراہیم
رابعہ
راجا اکرام قمر
زاہدحسین
زریاب خان
سادہ لوگ
سارہ انور
ساگر
شہزاد
صباگل
عدنان جرال
غلام الدین
فاران وڑائچ
گلشن شیرازی
ملک
مہہ جبین
غلام الدین کا پیش کردہ کلام
عمر بھر چلتے رہے ہم وقت کی تلوار پر
عمر بھر چلتے رہے ہم وقت کی تلوار پر پرورش پائی ہے اپنے خون ہی کی دھار پر چاہنے والے کی اک غلطی سے برہم ہو گیا فخر تھا کتنا اسے خود پیار کے معیار پر رات گہری میری تنہائی کا ساگر اور پھر تیری یادوں کے سلگتے دیپ ہر منجدھار پر شام آئی اور سب شاخوں کی گلیاں سو گئیں موت کا سایا سا منڈلانے لگا اشجار پر خلوت شب میں یہ اکثر سوچتا کیوں ہوں کہ چاند نور کا بوسہ ہے گویا رات کے رخسار پر سال نو آتا ہے تو محفوظ کر لیتا ہوں میں کچھ پرانے سے کلینڈر ذہن کی دیوار پر زندگی آزاد پہلے یوں کبھی تنہا نہ تھی آدمی بہتا تھا یوں ہی وقت کی رفتار پر