آزاد گلاٹی

آج ان آنکھوں میں دیکھا تو ملا دشت خلا آزاد گلاٹی

19 April 2026

23سپیکرز
212لسنرز

سپیکرز

ایم سعید کا پیش کردہ کلام

روشنی پھیلی تو سب کا رنگ کالا ہو گیا

روشنی پھیلی تو سب کا رنگ کالا ہو گیا کچھ دیئے ایسے جلے ہر سو اندھیرا ہو گیا جس نے میرا ساتھ چھوڑا اور کسی کا ہو گیا سچ تو یہ ہے مجھ سے بھی بڑھ کر وہ تنہا ہو گیا وقت کا یہ موڑ کیسا ہے کہ تجھ سے مل کے بھی تجھ کو کھو دینے کا غم کچھ اور گہرا ہو گیا ہم نے تنہائی کی چادر تان لی اور سو گئے لوگ جب کہنے لگے اٹھو سویرا ہو گیا ڈوبتا سورج ہوں میں وہ میرا سایا دیکھ کر سوچتا یہ ہے قد اس کا مجھ سے لمبا ہو گیا چند لمحے تھے جو برسوں بعد تک بیتے نہیں کچھ برس وہ بھی تھے جن کا ایک لمحہ ہو گیا جب زباں کھولی تو سب کو نیند سی آنے لگی چپ ہوئے تو یوں لگا ہر شخص بہرا ہو گیا ساتھ اس کا چھوڑ کر آئے تو یہ عالم رہا ہم نے جس چہرے کو دیکھا اس کا چہرہ ہو گیا اس تعلق کو بھلا آزادؔ میں کیا نام دوں وہ کسی کا ہو کے بھی کچھ اور میرا ہو گیا

— آزاد گلاٹی