سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
ثنا سوئٹ
کو ہوسٹ
ریبل
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
امل خان
ایم سعید
پرشانت
تبو
جاسمین
حرااعوان
حسن سید
حماد ابراہیم
رابعہ
راجا اکرام قمر
زاہدحسین
زریاب خان
سادہ لوگ
سارہ انور
ساگر
شہزاد
صباگل
عدنان جرال
غلام الدین
فاران وڑائچ
گلشن شیرازی
ملک
مہہ جبین
ایم سعید کا پیش کردہ کلام
روشنی پھیلی تو سب کا رنگ کالا ہو گیا
روشنی پھیلی تو سب کا رنگ کالا ہو گیا کچھ دیئے ایسے جلے ہر سو اندھیرا ہو گیا جس نے میرا ساتھ چھوڑا اور کسی کا ہو گیا سچ تو یہ ہے مجھ سے بھی بڑھ کر وہ تنہا ہو گیا وقت کا یہ موڑ کیسا ہے کہ تجھ سے مل کے بھی تجھ کو کھو دینے کا غم کچھ اور گہرا ہو گیا ہم نے تنہائی کی چادر تان لی اور سو گئے لوگ جب کہنے لگے اٹھو سویرا ہو گیا ڈوبتا سورج ہوں میں وہ میرا سایا دیکھ کر سوچتا یہ ہے قد اس کا مجھ سے لمبا ہو گیا چند لمحے تھے جو برسوں بعد تک بیتے نہیں کچھ برس وہ بھی تھے جن کا ایک لمحہ ہو گیا جب زباں کھولی تو سب کو نیند سی آنے لگی چپ ہوئے تو یوں لگا ہر شخص بہرا ہو گیا ساتھ اس کا چھوڑ کر آئے تو یہ عالم رہا ہم نے جس چہرے کو دیکھا اس کا چہرہ ہو گیا اس تعلق کو بھلا آزادؔ میں کیا نام دوں وہ کسی کا ہو کے بھی کچھ اور میرا ہو گیا