آزاد گلاٹی

آج ان آنکھوں میں دیکھا تو ملا دشت خلا آزاد گلاٹی

19 April 2026

23سپیکرز
212لسنرز

سپیکرز

پرشانت کا پیش کردہ کلام

دن میں اس طرح مرے دل میں سمایا سورج

دن میں اس طرح مرے دل میں سمایا سورج رات آنکھوں کے افق پر ابھر آیا سورج اپنی تو رات بھی جلتے ہی کٹی دن کی طرح رات کو سو تو گیا دن کا ستایا سورج صبح نکلا کسی دلہن کی دمک رخ پہ لیے شام ڈوبا کسی بیوہ سا بجھایا سورج رات کو میں مرا سایا تھے اکٹھے دونوں لے گیا چھین کے دن کو مرا سایا سورج دن گزرتا نہ تھا کم بخت کا تنہا جلتے وادئ شب سے مجھے ڈھونڈ کے لایا سورج تو نے جس دن سے مجھے سونپ دیا ظلمت کو تب سے دن میں بھی نہ مجھ کو نظر آیا سورج آسماں ایک سلگتا ہوا صحرا ہے جہاں ڈھونڈھتا پھرتا ہے خود اپنا ہی سایا سورج دن کو جس نے ہمیں نیزوں پہ چڑھائے رکھا شب کو ہم نے وہی پلکوں پہ سلایا سورج

— آزاد گلاٹی