سپیکرز
ایمان کا پیش کردہ کلام
سرحد جسم سے باہر کہیں گھر لکھا تھا
سرحد جسم سے باہر کہیں گھر لکھا تھا روح پر اپنی خلاؤں کا سفر لکھا تھا ہم بھٹکتے رہے صدیوں جسے پڑھنے کے لئے اپنے اندر وہ کہیں حرف ہنر لکھا تھا آج ان آنکھوں میں دیکھا تو ملا دشت خلا ہم نے جن آنکھوں میں اک خواب نگر لکھا تھا اپنے گھر میں اسی احساس نے جینے نہ دیا اپنے ہاتھوں پہ کسی اور کا گھر لکھا تھا زندگی ایک سلگتا ہوا صحرا تھا جہاں سب کی آنکھوں میں سرابوں کا بھنور لکھا تھا کون تھا مجھ میں کہ جس نے مجھے پڑھنے نہ دیا میرے چہرے پہ مرا نام اگر لکھا تھا اپنی ہی ذات کے ہالے میں رہے ہم آزادؔ ان گنت دائروں کا یعنی سفر لکھا تھا
ڈوب کر خود میں کبھی یوں بے کراں ہو جاؤں گا
ڈوب کر خود میں کبھی یوں بے کراں ہو جاؤں گا ایک دن میں بھی زمیں پر آسماں ہو جاؤں گا ریزہ ریزہ ڈھلتا جاتا ہوں میں حرف و صوت میں رفتہ رفتہ اک نہ اک دن میں بیاں ہو جاؤں گا تم بلاؤ گے تو آئے گی صدائے بازگشت وہ بھی دن آئے گا جب سونا مکاں ہو جاؤں گا تم ہٹا لو اپنے احسانات کی پرچھائیاں مجھ کو جینا ہے تو اپنا سائباں ہو جاؤں گا یہ سلگتا جسم ڈھل جائے گا جب برفاب میں میں بدلتے موسموں کی داستاں ہو جاؤں گا منتظر صدیوں سے ہوں آزادؔ اس لمحے کا جب روز روشن کی طرح خود پر عیاں ہو جاؤں گا