آزاد گلاٹی

آج ان آنکھوں میں دیکھا تو ملا دشت خلا آزاد گلاٹی

19 April 2026

23سپیکرز
212لسنرز

سپیکرز

ایمان کا پیش کردہ کلام

سرحد جسم سے باہر کہیں گھر لکھا تھا

سرحد جسم سے باہر کہیں گھر لکھا تھا روح پر اپنی خلاؤں کا سفر لکھا تھا ہم بھٹکتے رہے صدیوں جسے پڑھنے کے لئے اپنے اندر وہ کہیں حرف ہنر لکھا تھا آج ان آنکھوں میں دیکھا تو ملا دشت خلا ہم نے جن آنکھوں میں اک خواب نگر لکھا تھا اپنے گھر میں اسی احساس نے جینے نہ دیا اپنے ہاتھوں پہ کسی اور کا گھر لکھا تھا زندگی ایک سلگتا ہوا صحرا تھا جہاں سب کی آنکھوں میں سرابوں کا بھنور لکھا تھا کون تھا مجھ میں کہ جس نے مجھے پڑھنے نہ دیا میرے چہرے پہ مرا نام اگر لکھا تھا اپنی ہی ذات کے ہالے میں رہے ہم آزادؔ ان گنت دائروں کا یعنی سفر لکھا تھا

— آزاد گلاٹی

ڈوب کر خود میں کبھی یوں بے کراں ہو جاؤں گا

ڈوب کر خود میں کبھی یوں بے کراں ہو جاؤں گا ایک دن میں بھی زمیں پر آسماں ہو جاؤں گا ریزہ ریزہ ڈھلتا جاتا ہوں میں حرف و صوت میں رفتہ رفتہ اک نہ اک دن میں بیاں ہو جاؤں گا تم بلاؤ گے تو آئے گی صدائے بازگشت وہ بھی دن آئے گا جب سونا مکاں ہو جاؤں گا تم ہٹا لو اپنے احسانات کی پرچھائیاں مجھ کو جینا ہے تو اپنا سائباں ہو جاؤں گا یہ سلگتا جسم ڈھل جائے گا جب برفاب میں میں بدلتے موسموں کی داستاں ہو جاؤں گا منتظر صدیوں سے ہوں آزادؔ اس لمحے کا جب روز روشن کی طرح خود پر عیاں ہو جاؤں گا

— آزاد گلاٹی