آزاد گلاٹی

آج ان آنکھوں میں دیکھا تو ملا دشت خلا آزاد گلاٹی

19 April 2026

23سپیکرز
212لسنرز

سپیکرز

ریبل کا پیش کردہ کلام

آنے والے حادثوں کے خوف سے سہمے ہوئے

آنے والے حادثوں کے خوف سے سہمے ہوئے لوگ پھرتے ہیں کہ جیسے خواب ہوں ٹوٹے ہوئے صبح دیکھا تو نہ تھا کچھ پاس الجھن کے سوا رات ہم بیٹھے رہے کس سوچ میں ڈوبے ہوئے اپنے دکھ میں ڈوب کر وسعت ملی کیسی ہمیں ہیں زمیں سے آسماں تک ہم ہی ہم پھیلے ہوئے آج آئینے میں خود کو دیکھ کر یاد آ گیا ایک مدت ہو گئی جس شخص کو دیکھے ہوئے جسم کی دیوار گر جائے تو کچھ احساس ہو اپنے اندر ہم پڑے ہیں کس قدر سمٹے ہوئے کس سے پوچھیں رات بھر اپنے بھٹکنے کا سبب سب یہاں ملتے ہیں جیسے نیند میں جاگے ہوئے اس نگر کے جگمگاتے راستوں پر گھوم کر ہم چلے آئے غموں کی دھول میں لپٹے ہوئے جن کو اے آزادؔ بخشی تھی مہک ہم نے کبھی اب وہی رستے ہمارے واسطے کانٹے ہوئے

— آزاد گلاٹی