سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
ثنا سوئٹ
کو ہوسٹ
ریبل
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
امل خان
ایم سعید
پرشانت
تبو
جاسمین
حرااعوان
حسن سید
حماد ابراہیم
رابعہ
راجا اکرام قمر
زاہدحسین
زریاب خان
سادہ لوگ
سارہ انور
ساگر
شہزاد
صباگل
عدنان جرال
غلام الدین
فاران وڑائچ
گلشن شیرازی
ملک
مہہ جبین
ریبل کا پیش کردہ کلام
آنے والے حادثوں کے خوف سے سہمے ہوئے
آنے والے حادثوں کے خوف سے سہمے ہوئے لوگ پھرتے ہیں کہ جیسے خواب ہوں ٹوٹے ہوئے صبح دیکھا تو نہ تھا کچھ پاس الجھن کے سوا رات ہم بیٹھے رہے کس سوچ میں ڈوبے ہوئے اپنے دکھ میں ڈوب کر وسعت ملی کیسی ہمیں ہیں زمیں سے آسماں تک ہم ہی ہم پھیلے ہوئے آج آئینے میں خود کو دیکھ کر یاد آ گیا ایک مدت ہو گئی جس شخص کو دیکھے ہوئے جسم کی دیوار گر جائے تو کچھ احساس ہو اپنے اندر ہم پڑے ہیں کس قدر سمٹے ہوئے کس سے پوچھیں رات بھر اپنے بھٹکنے کا سبب سب یہاں ملتے ہیں جیسے نیند میں جاگے ہوئے اس نگر کے جگمگاتے راستوں پر گھوم کر ہم چلے آئے غموں کی دھول میں لپٹے ہوئے جن کو اے آزادؔ بخشی تھی مہک ہم نے کبھی اب وہی رستے ہمارے واسطے کانٹے ہوئے