آزاد گلاٹی

آج ان آنکھوں میں دیکھا تو ملا دشت خلا آزاد گلاٹی

19 April 2026

23سپیکرز
212لسنرز

سپیکرز

ملک کا پیش کردہ کلام

خلائے ذہن کے گنبد میں گونجتا ہوں میں

خلائے ذہن کے گنبد میں گونجتا ہوں میں خود اپنے عہد گزشتہ کی اک صدا ہوں میں سمیٹ لاتا ہوں موتی تمہاری یادوں کے جو خلوتوں کے سمندر میں ڈوبتا ہوں میں تمہیں بھی مجھ میں نہ شاید وہ پہلی بات ملے خود اپنے واسطے اب کوئی دوسرا ہوں میں جو دے سکو تو خنک سائے دو محبت کے خیال و خواب کی دنیا میں جل رہا ہوں میں وہ خود مجھی میں کہیں کھو گیا نہ ہو آزادؔ جسے خلائے زمانہ میں ڈھونڈتا ہوں میں

— آزاد گلاٹی