سپیکرز
افتخار احمد کا پیش کردہ کلام
بدل گئی ہیں اگرچہ ضرورتیں اپنی
بدل گئی ہیں اگرچہ ضرورتیں اپنی ہمارے ساتھ ہیں اب تک روایتیں اپنی ہمیں حیات کا ہر لمحہ تب بھی دوزخ تھا ہمارے پاؤں تلے جب تھیں جنتیں اپنی وہ پھول اب کھلے جن کی تلاش میں ہم لوگ گنوا چکے ہیں کبھی کے بصارتیں اپنی رہے ہیں اپنی ہی پہچان میں یوں سرگرداں کہ یاد آتی نہیں ہم کو صورتیں اپنی بکے ہیں کوڑیوں کے بھاؤ تو گلہ کس سے ہمیں کو خود نہ تھیں معلوم قیمتیں اپنی خموشیوں کی صدائیں بلا رہی تھیں ہمیں نہ ساتھ دے سکیں لیکن سماعتیں اپنی سبھی کو دعویٰ ہے آزادؔ جانتے ہیں ہمیں کھلیں نہ ہم پہ ہی لیکن حقیقتیں اپنی
ایک ہنگامہ بپا ہے مجھ میں
ایک ہنگامہ بپا ہے مجھ میں کوئی تو مجھ سے بڑا ہے مجھ میں انکساری مرا شیوہ ہے مگر اک ذرا زعم انا ہے مجھ میں مجھ سے وہ کیسے بڑا ہے کہیے جب خدا میرا چھپا ہے مجھ میں میں نہیں ہوں تو مرا کون ہے یہ اتنے جنموں جو رہا ہے مجھ میں وہی لمحے تو غزل چھیڑتے ہیں جن کی گم گشتہ صدا ہے مجھ میں دشت ظلمات میں ہمراہ مرے کوئی تو ہے جو جلا ہے مجھ میں