آزاد گلاٹی

آج ان آنکھوں میں دیکھا تو ملا دشت خلا آزاد گلاٹی

19 April 2026

23سپیکرز
212لسنرز

سپیکرز

افتخار احمد کا پیش کردہ کلام

بدل گئی ہیں اگرچہ ضرورتیں اپنی

بدل گئی ہیں اگرچہ ضرورتیں اپنی ہمارے ساتھ ہیں اب تک روایتیں اپنی ہمیں حیات کا ہر لمحہ تب بھی دوزخ تھا ہمارے پاؤں تلے جب تھیں جنتیں اپنی وہ پھول اب کھلے جن کی تلاش میں ہم لوگ گنوا چکے ہیں کبھی کے بصارتیں اپنی رہے ہیں اپنی ہی پہچان میں یوں سرگرداں کہ یاد آتی نہیں ہم کو صورتیں اپنی بکے ہیں کوڑیوں کے بھاؤ تو گلہ کس سے ہمیں کو خود نہ تھیں معلوم قیمتیں اپنی خموشیوں کی صدائیں بلا رہی تھیں ہمیں نہ ساتھ دے سکیں لیکن سماعتیں اپنی سبھی کو دعویٰ ہے آزادؔ جانتے ہیں ہمیں کھلیں نہ ہم پہ ہی لیکن حقیقتیں اپنی

— آزاد گلاٹی

ایک ہنگامہ بپا ہے مجھ میں

ایک ہنگامہ بپا ہے مجھ میں کوئی تو مجھ سے بڑا ہے مجھ میں انکساری مرا شیوہ ہے مگر اک ذرا زعم انا ہے مجھ میں مجھ سے وہ کیسے بڑا ہے کہیے جب خدا میرا چھپا ہے مجھ میں میں نہیں ہوں تو مرا کون ہے یہ اتنے جنموں جو رہا ہے مجھ میں وہی لمحے تو غزل چھیڑتے ہیں جن کی گم گشتہ صدا ہے مجھ میں دشت ظلمات میں ہمراہ مرے کوئی تو ہے جو جلا ہے مجھ میں

— آزاد گلاٹی