آزاد گلاٹی

آج ان آنکھوں میں دیکھا تو ملا دشت خلا آزاد گلاٹی

19 April 2026

23سپیکرز
212لسنرز

سپیکرز

مہہ جبین کا پیش کردہ کلام

گو مرا ساتھ مری اپنی نظر نے نہ دیا

گو مرا ساتھ مری اپنی نظر نے نہ دیا دشت تنہائی میں اے دل تجھے ڈرنے نہ دیا زندگی کتنا تری بات کا ہے پاس ہمیں تو نے جو زخم دیا ہم نے وہ بھرنے نہ دیا ایک وہ ہیں کہ جنہیں اپنی خوشی لے ڈوبی ایک ہم ہیں کہ جنہیں غم نے ابھرنے نہ دیا آپ جس رہگزر دل سے کبھی گزرے تھے اس پہ تا عمر کسی کو بھی گزرنے نہ دیا ہم تو ہر حال سنوارا کیے حالات آزادؔ ہم کو حالات نے ہر چند سنورنے نہ دیا

— آزاد گلاٹی