آزاد گلاٹی

آج ان آنکھوں میں دیکھا تو ملا دشت خلا آزاد گلاٹی

19 April 2026

23سپیکرز
212لسنرز

سپیکرز

زاہدحسین کا پیش کردہ کلام

میں بچھڑ کر تجھ سے تیری روح کے پیکر میں ہوں

میں بچھڑ کر تجھ سے تیری روح کے پیکر میں ہوں تو مری تصویر ہے میں تیرے پس منظر میں ہوں اپنا مرکز ڈھونڈتا ہوں دائروں میں کھو کے میں کتنے جنموں سے میں اک محدود سے چکر میں ہوں خود ہی دستک دے رہا ہوں اپنے در پر دیر سے گھر سے باہر رہ کے بھی جیسے میں اپنے گھر میں ہوں میں وہ آذر ہوں جسے برسوں رہی اپنی تلاش خود ہی مورت بن کے پوشیدہ ہر اک پتھر میں ہوں دیکھنے والے مجھے میری نظر سے دیکھ لے میں تری نظروں میں ہوں اور میں ہی ہر منظر میں ہوں گونجتا ہوں اپنے اندر اور کھو جاتا ہوں میں اک صدا بن کر انا کے گنبد بے در میں ہوں میں کبھی اک جھیل تھا پھیلے ہوئے صحراؤں میں آج میں اک پیاس کا صحرا ہوں اور ساگر میں ہوں موت کو آزادؔ یہ عرفان دینا ہے مجھے کاٹتی ہے مجھ کو جس سے وہ میں اس خنجر میں ہوں

— آزاد گلاٹی