سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
ثنا سوئٹ
کو ہوسٹ
ریبل
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
امل خان
ایم سعید
پرشانت
تبو
جاسمین
حرااعوان
حسن سید
حماد ابراہیم
رابعہ
راجا اکرام قمر
زاہدحسین
زریاب خان
سادہ لوگ
سارہ انور
ساگر
شہزاد
صباگل
عدنان جرال
غلام الدین
فاران وڑائچ
گلشن شیرازی
ملک
مہہ جبین
زاہدحسین کا پیش کردہ کلام
میں بچھڑ کر تجھ سے تیری روح کے پیکر میں ہوں
میں بچھڑ کر تجھ سے تیری روح کے پیکر میں ہوں تو مری تصویر ہے میں تیرے پس منظر میں ہوں اپنا مرکز ڈھونڈتا ہوں دائروں میں کھو کے میں کتنے جنموں سے میں اک محدود سے چکر میں ہوں خود ہی دستک دے رہا ہوں اپنے در پر دیر سے گھر سے باہر رہ کے بھی جیسے میں اپنے گھر میں ہوں میں وہ آذر ہوں جسے برسوں رہی اپنی تلاش خود ہی مورت بن کے پوشیدہ ہر اک پتھر میں ہوں دیکھنے والے مجھے میری نظر سے دیکھ لے میں تری نظروں میں ہوں اور میں ہی ہر منظر میں ہوں گونجتا ہوں اپنے اندر اور کھو جاتا ہوں میں اک صدا بن کر انا کے گنبد بے در میں ہوں میں کبھی اک جھیل تھا پھیلے ہوئے صحراؤں میں آج میں اک پیاس کا صحرا ہوں اور ساگر میں ہوں موت کو آزادؔ یہ عرفان دینا ہے مجھے کاٹتی ہے مجھ کو جس سے وہ میں اس خنجر میں ہوں