آزاد گلاٹی

آج ان آنکھوں میں دیکھا تو ملا دشت خلا آزاد گلاٹی

19 April 2026

23سپیکرز
212لسنرز

سپیکرز

امل خان کا پیش کردہ کلام

تیرے قدموں کی آہٹ کو ترسا ہوں

تیرے قدموں کی آہٹ کو ترسا ہوں میں بھی تیرا بھولا ہوا اک رستا ہوں بیتے لمحوں کے جھونکے جب آتے ہیں پل دو پل کو میں پھر سے کھل اٹھتا ہوں مجھ سے مژدہ نئی رتوں کا پاؤ گے یارو میں اس پیڑ کا انتم پتا ہوں شاید تم بھی اب نہ مجھے پہچان سکو اب میں خود کو اپنے جیسا لگتا ہوں آج کے کالے سائے کل تک پھیلیں گے میرے بچو میں اس بات سے ڈرتا ہوں تم بھی کیسے ڈھونڈ سکو گے اب مجھ کو میں خود اپنے آپ سے اوجھل رہتا ہوں سایوں کی خواہش نے مجھے جلایا ہے اب میں ان کے نام سے تپنے لگتا ہوں مجھ سے مل کر کس کو یقین اب آئے گا میں بھی تیرا ٹوٹا ہوا اک رشتہ ہوں

— آزاد گلاٹی