سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
ثنا سوئٹ
کو ہوسٹ
ریبل
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
امل خان
ایم سعید
پرشانت
تبو
جاسمین
حرااعوان
حسن سید
حماد ابراہیم
رابعہ
راجا اکرام قمر
زاہدحسین
زریاب خان
سادہ لوگ
سارہ انور
ساگر
شہزاد
صباگل
عدنان جرال
غلام الدین
فاران وڑائچ
گلشن شیرازی
ملک
مہہ جبین
امل خان کا پیش کردہ کلام
تیرے قدموں کی آہٹ کو ترسا ہوں
تیرے قدموں کی آہٹ کو ترسا ہوں میں بھی تیرا بھولا ہوا اک رستا ہوں بیتے لمحوں کے جھونکے جب آتے ہیں پل دو پل کو میں پھر سے کھل اٹھتا ہوں مجھ سے مژدہ نئی رتوں کا پاؤ گے یارو میں اس پیڑ کا انتم پتا ہوں شاید تم بھی اب نہ مجھے پہچان سکو اب میں خود کو اپنے جیسا لگتا ہوں آج کے کالے سائے کل تک پھیلیں گے میرے بچو میں اس بات سے ڈرتا ہوں تم بھی کیسے ڈھونڈ سکو گے اب مجھ کو میں خود اپنے آپ سے اوجھل رہتا ہوں سایوں کی خواہش نے مجھے جلایا ہے اب میں ان کے نام سے تپنے لگتا ہوں مجھ سے مل کر کس کو یقین اب آئے گا میں بھی تیرا ٹوٹا ہوا اک رشتہ ہوں