سپیکرز
گلشن شیرازی کا پیش کردہ کلام
میں آرزوئے جاں لکھوں یا جان آرزو!
میں آرزوئے جاں لکھوں یا جان آرزو! تو ہی بتا دے ناز سے ایمان آرزو! آنسو نکل رہے ہیں تصور میں بن کے پھول شاداب ہو رہا ہے گلستان آرزو! ایمان و جاں نثار تری اک نگاہ پر تو جان آرزو ہے تو ایمان آرزو! ہونے کو ہے طلوع صباح شب وصال بجھنے کو ہے چراغ شبستان آرزو! اک وہ کہ آرزؤں پہ جیتے ہیں عمر بھر اک ہم کہ ہیں ابھی سے پشیمان آرزو! آنکھوں سے جوئے خوں ہے رواں دل ہے داغ داغ دیکھے کوئی بہار گلستان آرزو! دل میں نشاط رفتہ کی دھندلی سی یاد ہے یا شمع وصل ہے تہ دامان آرزو! اخترؔ کو زندگی کا بھروسہ نہیں رہا جب سے لٹا چکے سر و سامان آرزو!
سما کر دل میں نظروں سے نہاں ہے
سما کر دل میں نظروں سے نہاں ہے مجھے یاد آنے والے تو کہاں ہے خدائی کہکشاں کہتی ہے جس کو وہ عذرا کا خرام رائیگاں ہے اندھیرے بادلوں سے پوچھ زاہد مری کھوئی ہوئی توبہ کہاں ہے یہ کس نے پیار کی نظروں سے دیکھا کہ میرے دل کی دنیا پھر جواں ہے جوانی رائیگاں جائے تو اچھا جوانی ایک خواب رائیگاں ہے