سپیکرز
زاہدحسین کا پیش کردہ کلام
نہ تمہارا حسن جواں رہا نہ ہمارا عشق جواں رہا
نہ تمہارا حسن جواں رہا نہ ہمارا عشق جواں رہا نہ وہ تم رہے نہ وہ ہم رہے جو رہا تو غم کا سماں رہا نہ وہ باغ ہیں نہ گھٹائیں ہیں نہ وہ پھول ہیں نہ فضائیں ہیں نہ وہ نکہتیں نہ ہوائیں ہیں نہ وہ بے خودی کا سماں رہا نہ وہ دل ہے اب نہ جوانیاں نہ وہ عاشقی کی کہانیاں نہ وہ غم نہ اشک فشانیاں نہ وہ درد دل کا نشاں رہا نہ چمن ہے وہ نہ بہار ہے نہ وہ بلبلیں نہ ہزار ہے یہی چار سمت پکار ہے نہ وہ رت ہے اب نہ سماں رہا نہ وہ عمر ہے نہ مسرتیں نہ وہ عیش ہے نہ وہ عشرتیں نہ وہ آرزوئیں نہ حسرتیں نہ خوشی کا نام و نشاں رہا نہ نشاں ہے ساقی و جام کا نہ وہ بادہ ہائے چمن ادا نہ مغنیہ رہی محو ساز نہ ساز مست فغاں رہا یہ بہار گلشن آب و گل ہے فنا اثر تو ہوں کیوں خجل وہ گل فسردہ ہے میرا دل کہ ہمیشہ نذر خزاں رہا نہیں صبر ساقیا لا بھی دے قدح بہار اٹھا بھی دے ابھی سن ہے لا کے پلا بھی دے کہ ہمیشہ کون جواں رہا کہوں کیا کہ رنج رسیدہ ہوں میں برنگ ابر رمیدہ ہوں نفس شمیم پریدہ ہوں کہ رہا تباہ جہاں رہا اثر بہار خزاں اثر ہے کہ ہے فسردہ مری نظر نہ ہوائے عشرت بال و پر نہ جنون باغ جناں رہا میں گل رمیدۂ رنگ و بو تو بہار مے کدۂ نمو میں ہمیشہ خستۂ آرزو تو ہمیشہ عیش جواں رہا نہ سکون دل نہ قرار جاں نہ قیام صبر کوئی زماں یہ سرشک غم کا ہے کارواں کہ یوں ہی ہمیشہ رواں رہا تو متاع گل کدۂ نظر گل نو بہار بہشت اثر میں وہ عندلیب شکستہ پر کہ ہمیشہ محو فغاں رہا نہ وہ سوز و ساز دروں ہے اب نہ وہ چشم گل کدۂ گوں ہے اب نہ وہ سر ہے اب نہ جنوں ہے اب نہ وہ ذوق شعلہ چکاں رہا ہے فلک کی بدلی ہوئی نظر کہیں کس سے اخترؔ نالہ گر کہ میں اس کے جور الم اثر سے ہمیشہ محو فغاں رہا
دل مہجور کو تسکین کا ساماں نہ ملا
دل مہجور کو تسکین کا ساماں نہ ملا شہر جاناں میں ہمیں مسکن جاناں نہ ملا کوچہ گردی میں کٹیں شوق کی کتنی راتیں پھر بھی اس شمع تمنا کا شبستاں نہ ملا پوچھتے منزل سلمیٰ کی خبر ہم جس سے وادیٔ نجد میں ایسا کوئی انساں نہ ملا یوں تو ہر راہ گزر پر تھے ستارے رقصاں جس کی حسرت تھی مگر وہ مہ تاباں نہ ملا لالہ و گل تھے بہت عام چمن میں لیکن ڈھونڈتے تھے جسے وہ سرو خراماں نہ ملا جس کے پردوں سے مچلتی ہو وہی نکہت شوق بے خودی کی قسم ایسا کوئی ایواں نہ ملا بخت بیدار کہاں جلوۂ دل دار کہاں خواب میں بھی ہمیں وہ غنچۂ خنداں نہ ملا بیکسی تشنہ لبی درد حلاوت طلبی چاندنی رات میں بھی چشمۂ حیواں نہ ملا یوں تو ہر در پہ ہی کہتے نظر آئے دامن کھینچتے ناز سے جس کو وہی داماں نہ ملا کس کے در پر نہ کیے سجدے نگاہوں نے مگر ہائے تقدیر وہ غارت گر ایماں نہ ملا کون سے بام کو رہ رہ کے نہ دیکھا لیکن نگہ شوق کو وہ ماہ خراماں نہ ملا در جاناں پہ فدا کرتے دل و جاں اخترؔ وائے بر حال دل و جاں در جاناں نہ ملا