اختر شیرانی

بہار آ کے چلی جاتی ہے ویرانی نہیں جاتی اختر شیرانی

11 February 2026

19سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

زاہدحسین کا پیش کردہ کلام

نہ تمہارا حسن جواں رہا نہ ہمارا عشق جواں رہا

نہ تمہارا حسن جواں رہا نہ ہمارا عشق جواں رہا نہ وہ تم رہے نہ وہ ہم رہے جو رہا تو غم کا سماں رہا نہ وہ باغ ہیں نہ گھٹائیں ہیں نہ وہ پھول ہیں نہ فضائیں ہیں نہ وہ نکہتیں نہ ہوائیں ہیں نہ وہ بے خودی کا سماں رہا نہ وہ دل ہے اب نہ جوانیاں نہ وہ عاشقی کی کہانیاں نہ وہ غم نہ اشک فشانیاں نہ وہ درد دل کا نشاں رہا نہ چمن ہے وہ نہ بہار ہے نہ وہ بلبلیں نہ ہزار ہے یہی چار سمت پکار ہے نہ وہ رت ہے اب نہ سماں رہا نہ وہ عمر ہے نہ مسرتیں نہ وہ عیش ہے نہ وہ عشرتیں نہ وہ آرزوئیں نہ حسرتیں نہ خوشی کا نام و نشاں رہا نہ نشاں ہے ساقی و جام کا نہ وہ بادہ ہائے چمن ادا نہ مغنیہ رہی محو ساز نہ ساز مست فغاں رہا یہ بہار گلشن آب و گل ہے فنا اثر تو ہوں کیوں خجل وہ گل فسردہ ہے میرا دل کہ ہمیشہ نذر خزاں رہا نہیں صبر ساقیا لا بھی دے قدح بہار اٹھا بھی دے ابھی سن ہے لا کے پلا بھی دے کہ ہمیشہ کون جواں رہا کہوں کیا کہ رنج رسیدہ ہوں میں برنگ ابر رمیدہ ہوں نفس شمیم پریدہ ہوں کہ رہا تباہ جہاں رہا اثر بہار خزاں اثر ہے کہ ہے فسردہ مری نظر نہ ہوائے عشرت بال و پر نہ جنون باغ جناں رہا میں گل رمیدۂ رنگ و بو تو بہار مے کدۂ نمو میں ہمیشہ خستۂ آرزو تو ہمیشہ عیش جواں رہا نہ سکون دل نہ قرار جاں نہ قیام صبر کوئی زماں یہ سرشک غم کا ہے کارواں کہ یوں ہی ہمیشہ رواں رہا تو متاع گل کدۂ نظر گل نو بہار بہشت اثر میں وہ عندلیب شکستہ پر کہ ہمیشہ محو فغاں رہا نہ وہ سوز و ساز دروں ہے اب نہ وہ چشم گل کدۂ گوں ہے اب نہ وہ سر ہے اب نہ جنوں ہے اب نہ وہ ذوق شعلہ چکاں رہا ہے فلک کی بدلی ہوئی نظر کہیں کس سے اخترؔ نالہ گر کہ میں اس کے جور الم اثر سے ہمیشہ محو فغاں رہا

— اختر شیرانی

دل مہجور کو تسکین کا ساماں نہ ملا

دل مہجور کو تسکین کا ساماں نہ ملا شہر جاناں میں ہمیں مسکن جاناں نہ ملا کوچہ گردی میں کٹیں شوق کی کتنی راتیں پھر بھی اس شمع تمنا کا شبستاں نہ ملا پوچھتے منزل سلمیٰ کی خبر ہم جس سے وادیٔ نجد میں ایسا کوئی انساں نہ ملا یوں تو ہر راہ گزر پر تھے ستارے رقصاں جس کی حسرت تھی مگر وہ مہ تاباں نہ ملا لالہ و گل تھے بہت عام چمن میں لیکن ڈھونڈتے تھے جسے وہ سرو خراماں نہ ملا جس کے پردوں سے مچلتی ہو وہی نکہت شوق بے خودی کی قسم ایسا کوئی ایواں نہ ملا بخت بیدار کہاں جلوۂ دل دار کہاں خواب میں بھی ہمیں وہ غنچۂ خنداں نہ ملا بیکسی تشنہ لبی درد حلاوت طلبی چاندنی رات میں بھی چشمۂ حیواں نہ ملا یوں تو ہر در پہ ہی کہتے نظر آئے دامن کھینچتے ناز سے جس کو وہی داماں نہ ملا کس کے در پر نہ کیے سجدے نگاہوں نے مگر ہائے تقدیر وہ غارت گر ایماں نہ ملا کون سے بام کو رہ رہ کے نہ دیکھا لیکن نگہ شوق کو وہ ماہ خراماں نہ ملا در جاناں پہ فدا کرتے دل و جاں اخترؔ وائے بر‌‌ حال‌ دل و جاں در جاناں نہ ملا

— اختر شیرانی