اختر شیرانی

بہار آ کے چلی جاتی ہے ویرانی نہیں جاتی اختر شیرانی

11 February 2026

19سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

نور مائیر کا پیش کردہ کلام

عمر بھر کی تلخ بیداری کا ساماں ہو گئیں

عمر بھر کی تلخ بیداری کا ساماں ہو گئیں ہائے وہ راتیں کہ جو خواب پریشاں ہو گئیں میں فدا اس چاند سے چہرے پہ جس کے نور سے میرے خوابوں کی فضائیں یوسفستاں ہو گئیں عمر بھر کم بخت کو پھر نیند آ سکتی نہیں جس کی آنکھوں پر تری زلفیں پریشاں ہو گئیں دل کے پردوں میں تھیں جو جو حسرتیں پردہ نشیں آج وہ آنکھوں میں آنسو بن کے عریاں ہو گئیں کچھ تجھے بھی ہے خبر او سونے والے ناز سے میری راتیں لٹ گئیں نیندیں پریشاں ہو گئیں ہائے وہ مایوسیوں میں میری امیدوں کا رنگ جو ستاروں کی طرح اٹھ اٹھ کے پنہاں ہو گئیں بس کرو او میری رونے والی آنکھوں بس کرو اب تو اپنے ظلم پر وہ بھی پشیماں ہو گئیں آہ وہ دن جو نہ آئے پھر گزر جانے کے بعد ہائے وہ راتیں کہ جو خواب پریشاں ہو گئیں گلشن دل میں کہاں اخترؔ وہ رنگ نو بہار آرزوئیں چند کلیاں تھیں پریشاں ہو گئیں

— اختر شیرانی