سپیکرز
نور مائیر
ہوسٹ
ثنا سوئٹ
کو ہوسٹ
امل خان
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
آبدار خان
آدرش
افراسیاب
امجد حسین
ایم سعید
راجا اکرام قمر
زاہدحسین
سجاد رضا
سلیم باری
سید جینٹلمین
شہزاد
غالب
فائیٹر
کریسنٹ
گلشن شیرازی
ملک
نایاب
ندیم بخاری
یادرفتگان
نور مائیر کا پیش کردہ کلام
عمر بھر کی تلخ بیداری کا ساماں ہو گئیں
عمر بھر کی تلخ بیداری کا ساماں ہو گئیں ہائے وہ راتیں کہ جو خواب پریشاں ہو گئیں میں فدا اس چاند سے چہرے پہ جس کے نور سے میرے خوابوں کی فضائیں یوسفستاں ہو گئیں عمر بھر کم بخت کو پھر نیند آ سکتی نہیں جس کی آنکھوں پر تری زلفیں پریشاں ہو گئیں دل کے پردوں میں تھیں جو جو حسرتیں پردہ نشیں آج وہ آنکھوں میں آنسو بن کے عریاں ہو گئیں کچھ تجھے بھی ہے خبر او سونے والے ناز سے میری راتیں لٹ گئیں نیندیں پریشاں ہو گئیں ہائے وہ مایوسیوں میں میری امیدوں کا رنگ جو ستاروں کی طرح اٹھ اٹھ کے پنہاں ہو گئیں بس کرو او میری رونے والی آنکھوں بس کرو اب تو اپنے ظلم پر وہ بھی پشیماں ہو گئیں آہ وہ دن جو نہ آئے پھر گزر جانے کے بعد ہائے وہ راتیں کہ جو خواب پریشاں ہو گئیں گلشن دل میں کہاں اخترؔ وہ رنگ نو بہار آرزوئیں چند کلیاں تھیں پریشاں ہو گئیں