سپیکرز
ثنا سوئٹ کا پیش کردہ کلام
یہ دنیا کتنی پیاری ہے
یہ دنیا کتنی پیاری ہے ہر اک بات اس کی نیاری ہے یہ دنیا کتنی پیاری ہے مکاں آباد ہیں کیسے مکیں دل شاد ہیں کیسے یہ دنیا کتنی پیاری ہے کبھی دن ہے نظارے ہیں کبھی ہے رات تارے ہیں یہ دنیا کتنی پیاری ہے چمن میں پودے ہلتے ہیں گلے آپس میں ملتے ہیں یہ دنیا کتنی پیاری ہے گجر دم گاتی ہیں چڑیاں دلوں کو بھاتی ہیں چڑیاں یہ دنیا کتنی پیاری ہے کھلے ہیں پھول گلشن میں اگی ہیں جھاڑیاں بن میں یہ دنیا کتنی پیاری ہے ہوا کے جھونکے آتے ہیں شگوفے مسکراتے ہیں یہ دنیا کتنی پیاری ہے پرندے چہچہاتے ہیں ہمارا جی لبھاتے ہیں یہ دنیا کتنی پیاری ہے گھٹائیں گھر کے آتی ہیں بہاریں مینہ کی لاتی ہیں یہ دنیا کتنی پیاری ہے سمندر ہیں رواں دیکھو جہاز اور کشتیاں دیکھو یہ دنیا کتنی پیاری ہے یہ کوسوں تک ہرے جنگل درختوں سے بھرے جنگل یہ دنیا کتنی پیاری ہے یہ دنیا کتنی پیاری ہے
وہ کہتے ہیں رنجش کی باتیں بھلا دیں
وہ کہتے ہیں رنجش کی باتیں بھلا دیں محبت کریں خوش رہیں مسکرا دیں غرور اور ہمارا غرور محبت مہ و مہر کو ان کے در پر جھکا دیں جوانی ہو گر جاودانی تو یا رب تری سادہ دنیا کو جنت بنا دیں شب وصل کی بے خودی چھا رہی ہے کہو تو ستاروں کی شمعیں بجھا دیں بہاریں سمٹ آئیں کھل جائیں کلیاں جو ہم تم چمن میں کبھی مسکرا دیں عبادت ہے اک بے خودی سے عبارت حرم کو مے مشک بو سے بسا دیں وہ آئیں گے آج اے بہار محبت ستاروں کے بستر پہ کلیاں بچھا دیں بناتا ہے منہ تلخی مے سے زاہد تجھے باغ رضواں سے کوثر منگا دیں جنہیں عمر بھر یاد آنا سکھایا وہ دل سے تری یاد کیونکر بھلا دیں تم افسانۂ قیس کیا پوچھتے ہو ادھر آؤ ہم تم کو لیلیٰ بنا دیں یہ بے دردیاں کب تک اے درد غربت بتوں کو پھر ارض حرم میں بسا دیں وہ سرمستیاں بخش اے رشک شیریں کہ خسرو کو خواب عدم سے جگا دیں ترے وصل کی بے خودی کہہ رہی ہے خدائی تو کیا ہم خدا کو بھلا دیں انہیں اپنی صورت پہ یوں ناز کب تھا مرے عشق رسوا کو اخترؔ دعا دیں