اختر شیرانی

بہار آ کے چلی جاتی ہے ویرانی نہیں جاتی اختر شیرانی

11 February 2026

19سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

ثنا سوئٹ کا پیش کردہ کلام

یہ دنیا کتنی پیاری ہے

یہ دنیا کتنی پیاری ہے ہر اک بات اس کی نیاری ہے یہ دنیا کتنی پیاری ہے مکاں آباد ہیں کیسے مکیں دل شاد ہیں کیسے یہ دنیا کتنی پیاری ہے کبھی دن ہے نظارے ہیں کبھی ہے رات تارے ہیں یہ دنیا کتنی پیاری ہے چمن میں پودے ہلتے ہیں گلے آپس میں ملتے ہیں یہ دنیا کتنی پیاری ہے گجر دم گاتی ہیں چڑیاں دلوں کو بھاتی ہیں چڑیاں یہ دنیا کتنی پیاری ہے کھلے ہیں پھول گلشن میں اگی ہیں جھاڑیاں بن میں یہ دنیا کتنی پیاری ہے ہوا کے جھونکے آتے ہیں شگوفے مسکراتے ہیں یہ دنیا کتنی پیاری ہے پرندے چہچہاتے ہیں ہمارا جی لبھاتے ہیں یہ دنیا کتنی پیاری ہے گھٹائیں گھر کے آتی ہیں بہاریں مینہ کی لاتی ہیں یہ دنیا کتنی پیاری ہے سمندر ہیں رواں دیکھو جہاز اور کشتیاں دیکھو یہ دنیا کتنی پیاری ہے یہ کوسوں تک ہرے جنگل درختوں سے بھرے جنگل یہ دنیا کتنی پیاری ہے یہ دنیا کتنی پیاری ہے

— اختر شیرانی

وہ کہتے ہیں رنجش کی باتیں بھلا دیں

وہ کہتے ہیں رنجش کی باتیں بھلا دیں محبت کریں خوش رہیں مسکرا دیں غرور اور ہمارا غرور محبت مہ و مہر کو ان کے در پر جھکا دیں جوانی ہو گر جاودانی تو یا رب تری سادہ دنیا کو جنت بنا دیں شب وصل کی بے خودی چھا رہی ہے کہو تو ستاروں کی شمعیں بجھا دیں بہاریں سمٹ آئیں کھل جائیں کلیاں جو ہم تم چمن میں کبھی مسکرا دیں عبادت ہے اک بے خودی سے عبارت حرم کو مے مشک بو سے بسا دیں وہ آئیں گے آج اے بہار محبت ستاروں کے بستر پہ کلیاں بچھا دیں بناتا ہے منہ تلخی مے سے زاہد تجھے باغ رضواں سے کوثر منگا دیں جنہیں عمر بھر یاد آنا سکھایا وہ دل سے تری یاد کیونکر بھلا دیں تم افسانۂ قیس کیا پوچھتے ہو ادھر آؤ ہم تم کو لیلیٰ بنا دیں یہ بے دردیاں کب تک اے درد غربت بتوں کو پھر ارض حرم میں بسا دیں وہ سرمستیاں بخش اے رشک شیریں کہ خسرو کو خواب عدم سے جگا دیں ترے وصل کی بے خودی کہہ رہی ہے خدائی تو کیا ہم خدا کو بھلا دیں انہیں اپنی صورت پہ یوں ناز کب تھا مرے عشق رسوا کو اخترؔ دعا دیں

— اختر شیرانی