اختر شیرانی

بہار آ کے چلی جاتی ہے ویرانی نہیں جاتی اختر شیرانی

11 February 2026

19سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

سلیم باری کا پیش کردہ کلام

محبت کی دنیا میں مشہور کر دوں

محبت کی دنیا میں مشہور کر دوں مری سادہ دل تجھ کو مغرور کر دوں ترے دل کو ملنے کی خود آرزو ہو تجھے اس قدر غم سے رنجور کر دوں مجھے زندگی دور رکھتی ہے تجھ سے جو تو پاس ہو تو اسے دور کر دوں محبت کے اقرار سے شرم کب تک کبھی سامنا ہو تو مجبور کر دوں مرے دل میں ہے شعلۂ حسن رقصاں میں چاہوں تو ہر ذرے کو طور کر دوں یہ بے رنگیاں کب تک اے حسن رنگیں ادھر آ تجھے عشق میں چور کر دوں تو گر سامنے ہو تو میں بے خودی میں ستاروں کو سجدے پہ مجبور کر دوں سیہ خانۂ غم ہے ساقی زمانہ بس اک جام اور نور ہی نور کر دوں نہیں زندگی کو وفا ورنہ اخترؔ محبت سے دنیا کو معمور کر دوں

— اختر شیرانی