سپیکرز
ندیم بخاری کا پیش کردہ کلام
کچھ تو تنہائی کی راتوں میں سہارا ہوتا
کچھ تو تنہائی کی راتوں میں سہارا ہوتا تم نہ ہوتے نہ سہی ذکر تمہارا ہوتا ترک دنیا کا یہ دعویٰ ہے فضول اے زاہد بار ہستی تو ذرا سر سے اتارا ہوتا وہ اگر آ نہ سکے موت ہی آئی ہوتی ہجر میں کوئی تو غمخوار ہمارا ہوتا زندگی کتنی مسرت سے گزرتی یا رب عیش کی طرح اگر غم بھی گوارا ہوتا عظمت گریہ کو کوتاہ نظر کیا سمجھیں اشک اگر اشک نہ ہوتا تو ستارا ہوتا لب زاہد پہ ہے افسانۂ حور جنت کاش اس وقت مرا انجمن آرا ہوتا غم الفت جو نہ ملتا غم ہستی ملتا کسی صورت تو زمانے میں گزارا ہوتا کس کو فرصت تھی زمانے کے ستم سہنے کی گر نہ اس شوخ کی آنکھوں کا اشارا ہوتا کوئی ہمدرد زمانے میں نہ پایا اخترؔ دل کو حسرت ہی رہی کوئی ہمارا ہوتا
کس کو دیکھا ہے یہ ہوا کیا ہے
کس کو دیکھا ہے یہ ہوا کیا ہے دل دھڑکتا ہے ماجرا کیا ہے اک محبت تھی مٹ چکی یا رب تیری دنیا میں اب دھرا کیا ہے دل میں لیتا ہے چٹکیاں کوئی ہائے اس درد کی دوا کیا ہے حوریں نیکوں میں بٹ چکی ہوں گی باغ رضواں میں اب رکھا کیا ہے اس کے عہد شباب میں جینا جینے والو تمہیں ہوا کیا ہے اب دوا کیسی ہے دعا کا وقت تیرے بیمار میں رہا کیا ہے یاد آتا ہے لکھنؤ اخترؔ خلد ہو آئیں تو برا کیا ہے