اختر شیرانی

بہار آ کے چلی جاتی ہے ویرانی نہیں جاتی اختر شیرانی

11 February 2026

19سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

یادرفتگان کا پیش کردہ کلام

کام آ سکیں نہ اپنی وفائیں تو کیا کریں

کام آ سکیں نہ اپنی وفائیں تو کیا کریں اس بے وفا کو بھول نہ جائیں تو کیا کریں مجھ کو یہ اعتراف دعاؤں میں ہے اثر جائیں نہ عرش پر جو دعائیں تو کیا کریں اک دن کی بات ہو تو اسے بھول جائیں ہم نازل ہوں دل پہ روز بلائیں تو کیا کریں ظلمت بدوش ہے مری دنیائے عاشقی تاروں کی مشعلے نہ چرائیں تو کیا کریں شب بھر تو ان کی یاد میں تارے گنا کئے تارے سے دن کو بھی نظر آئیں تو کیا کریں عہد طرب کی یاد میں رویا کئے بہت اب مسکرا کے بھول نہ جائیں تو کیا کریں اب جی میں ہے کہ ان کو بھلا کر ہی دیکھ لیں وہ بار بار یاد جو آئیں تو کیا کریں وعدے کے اعتبار میں تسکین دل تو ہے اب پھر وہی فریب نہ کھائیں تو کیا کریں ترک وفا بھی جرم محبت سہی مگر ملنے لگیں وفا کی سزائیں تو کیا کریں

— اختر شیرانی

دل و دماغ کو رو لوں گا آہ کر لوں گا

دل و دماغ کو رو لوں گا آہ کر لوں گا تمہارے عشق میں سب کچھ تباہ کر لوں گا اگر مجھے نہ ملیں تم تمہارے سر کی قسم میں اپنی ساری جوانی تباہ کر لوں گا مجھے جو دیر و حرم میں کہیں جگہ نہ ملی ترے خیال ہی کو سجدہ گاہ کر لوں گا جو تم سے کر دیا محروم آسماں نے مجھے میں اپنی زندگی صرف گناہ کر لوں گا رقیب سے بھی ملوں گا تمہارے حکم پہ میں جو اب تلک نہ کیا تھا اب آہ کر لوں گا تمہاری یاد میں میں کاٹ دوں گا حشر سے دن تمہارے ہجر میں راتیں سیاہ کر لوں گا ثواب کے لیے ہو جو گنہ وہ عین ثواب خدا کے نام پہ بھی اک گناہ کر لوں گا حریم حضرت سلمیٰ کی سمت جاتا ہوں ہوا نہ ضبط تو چپکے سے آہ کر لوں گا یہ نو بہار یہ ابرو، ہوا یہ رنگ شراب چلو جو ہو سو ہو اب تو گناہ کر لوں گا کسی حسینہ کے معصوم عشق میں اخترؔ جوانی کیا ہے میں سب کچھ تباہ کر لوں گا

— اختر شیرانی