اختر شیرانی

بہار آ کے چلی جاتی ہے ویرانی نہیں جاتی اختر شیرانی

11 February 2026

19سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

امل خان کا پیش کردہ کلام

آنسو

میرے پہلو میں جو بہہ نکلے تمہارے آنسو بن گئے شام محبت کے ستارے آنسو دیکھ سکتا ہے بھلا کون یہ پارے آنسو میری آنکھوں میں نہ آ جائیں تمہارے آنسو شمع کا عکس جھلکتا ہے جو ہر آنسو میں بن گئے بھیگی ہوئی رات کے تارے آنسو مینہ کی بوندوں کی طرح ہو گئے سستے کیوں آج موتیوں سے کہیں مہنگے تھے تمہارے آنسو صاف اقرار محبت ہو زباں سے کیوں کر آنکھ میں آ گئے یوں شرم کے مارے آنسو ہجر ابھی دور ہے میں پاس ہوں اے جان وفا کیوں ہوئے جاتے ہیں بے چین تمہارے آنسو صبح دم دیکھ نہ لے کوئی یہ بھیگا آنچل میری چغلی کہیں کھا دیں نہ تمہارے آنسو اپنے دامان و گریباں کو میں کیوں پیش کروں ہیں مرے عشق کا انعام تمہارے آنسو دم رخصت ہے قریب اے غم فرقت خوش ہو کرنے والے ہیں جدائی کے اشارے آنسو صدقے اس جان محبت کے میں اخترؔ جس کے رات بھر بہتے رہے شوق کے مارے آنسو

— اختر شیرانی

انگوٹھی

چھپاؤں کیوں نہ دل میں خاتم گوہر نگار اس کی یہی لے دے کے میرے پاس ہے اک یادگار اس کی یہ تنہائی میں میرے لب تک آ کر مسکراتی ہے اور اپنی مالکہ کی طرح دل کو گدگداتی ہے قلم کے ساتھ میرے ہاتھ میں ہر وقت رہتی ہے اور اس کے دست رنگیں کے فسانے مجھ سے کہتی ہے طلائی انگلیوں کا جب مجھے قصہ سناتی ہے تصور میں ستاروں کے سے پیکر کھینچ لاتی ہے مری سلمیٰؔ کو اس نے شاد اور ناشاد دیکھا ہے گہے مسرور گاہے مائل فریاد دیکھا ہے اسے معلوم ہیں اچھی طرح بیتابیاں اس کی نہیں پوشیدہ اس کی آنکھ سے بے خوابیاں اس کی شب تنہائی میں اس نے اسے بے دار پایا ہے اور اکثر دیدۂ سرشار کو خوں بار پایا ہے اسے معلوم ہے وہ کس طرح مغموم رہتی تھی کسی کے غم میں لطف زیست سے محروم رہتی تھی مرا خط پڑھ کے وہ کس کس ناز سے مسرور ہوتی تھی پھر اپنی بے بسی پر کس طرح رنجور ہوتی تھی یہ شاہد ہے کہ اس کی شام غم کیوں کر گزرتی تھی یہ شاہد ہے کہ وہ رو رو کے کیوں کر صبح کرتی تھی وہ جب دل تھام لیتی تھی ہجوم غم سے گھبرا کر تو یہ کرتی تھی اس کی غم گساری دل کے پاس آ کر اسے معلوم ہے جو درد تھا اس پاک سینے میں بسی ہیں اس کے دل کی دھڑکنیں اس کے نگینے میں پہنچتی ہیں شعاعیں اس کی جس دم چشم حیراں تک تصور مجھ کو لے اڑتا ہے سلمیٰؔ کے شبستاں تک جہاں سلمیٰؔ کے اور میرے سوا ہوتا نہیں کوئی انگوٹھی کھوئی جاتی ہے مگر کھوتا نہیں کوئی

— اختر شیرانی