سپیکرز
آبدار خان کا پیش کردہ کلام
ہمارے ہاتھ میں کب ساغر شراب نہیں
ہمارے ہاتھ میں کب ساغر شراب نہیں ہمارے قدموں پہ کس روز ماہتاب نہیں جہاں میں اب کوئی صورت پئے ثواب نہیں وہ مے کدے نہیں ساقی نہیں شراب نہیں شب بہار میں زلفوں سے کھیلنے والے ترے بغیر مجھے آرزوئے خواب نہیں چمن میں بلبلیں اور انجمن میں پروانے جہاں میں کون غم عشق سے خراب نہیں غم آہ عشق کے غم کا کوئی نہیں موسم بہار ہو کہ خزاں کب یہ اضطراب نہیں امید پرسش احوال ہو تو کیوں کر ہو سلام کا بھی تری بزم میں جواب نہیں وطن کا چھیڑ دیا کس نے تذکرہ اخترؔ کہ چشم شوق کو پھر آرزوئے خواب نہیں
اگر وہ اپنے حسین چہرے کو بھول کر بے نقاب کر دے
اگر وہ اپنے حسین چہرے کو بھول کر بے نقاب کر دے تو ذرے کو ماہتاب اور ماہتاب کو آفتاب کر دے تری محبت کی وادیوں میں مری جوانی سے دور کیا ہے جو سادہ پانی کو اک نشیلی نظر میں رنگیں شراب کر دے حریم عشرت میں سونے والے شمیم گیسو کی مستیوں سے مری جوانی کی سادہ راتوں کو اب تو سرشار خواب کر دے مزے وہ پائے ہیں آرزو میں کہ دل کی یہ آرزو ہے یا رب تمام دنیا کی آرزوئیں مرے لیے انتخاب کر دے نظر نا آنے پہ ہے یہ حالت کہ جنگ ہے شیخ و برہمن میں خبر نہیں کیا سے کیا ہو دنیا جو خود کو وہ بے نقاب کر دے مرے گناہوں کی شورشیں اس لیے زیادہ رہی ہیں یا رب کہ ان کی گستاخیوں سے تو اپنے عفو کو بے حساب کر دے خدا نہ لائے وہ دن کہ تیری سنہری نیندوں میں فرق آئے مجھے تو یوں اپنے ہجر میں عمر بھر کو بیزار خواب کر دے میں جان و دل سے تصور حسن دوست کی مستیوں کے قرباں جو اک نظر میں کسی کے بے کیف آنسوؤں کو شراب کر دے عروس فطرت کا ایک کھویا ہوا تبسم ہے جس کو اخترؔ کہیں وہ چاہے شراب کر دے کہیں وہ چاہے شباب کر دے