اختر شیرانی

بہار آ کے چلی جاتی ہے ویرانی نہیں جاتی اختر شیرانی

11 February 2026

19سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

آبدار خان کا پیش کردہ کلام

ہمارے ہاتھ میں کب ساغر شراب نہیں

ہمارے ہاتھ میں کب ساغر شراب نہیں ہمارے قدموں پہ کس روز ماہتاب نہیں جہاں میں اب کوئی صورت پئے ثواب نہیں وہ مے کدے نہیں ساقی نہیں شراب نہیں شب بہار میں زلفوں سے کھیلنے والے ترے بغیر مجھے آرزوئے خواب نہیں چمن میں بلبلیں اور انجمن میں پروانے جہاں میں کون غم عشق سے خراب نہیں غم آہ عشق کے غم کا کوئی نہیں موسم بہار ہو کہ خزاں کب یہ اضطراب نہیں امید پرسش احوال ہو تو کیوں کر ہو سلام کا بھی تری بزم میں جواب نہیں وطن کا چھیڑ دیا کس نے تذکرہ اخترؔ کہ چشم شوق کو پھر آرزوئے خواب نہیں

— اختر شیرانی

اگر وہ اپنے حسین چہرے کو بھول کر بے نقاب کر دے

اگر وہ اپنے حسین چہرے کو بھول کر بے نقاب کر دے تو ذرے کو ماہتاب اور ماہتاب کو آفتاب کر دے تری محبت کی وادیوں میں مری جوانی سے دور کیا ہے جو سادہ پانی کو اک نشیلی نظر میں رنگیں شراب کر دے حریم عشرت میں سونے والے شمیم گیسو کی مستیوں سے مری جوانی کی سادہ راتوں کو اب تو سرشار خواب کر دے مزے وہ پائے ہیں آرزو میں کہ دل کی یہ آرزو ہے یا رب تمام دنیا کی آرزوئیں مرے لیے انتخاب کر دے نظر نا آنے پہ ہے یہ حالت کہ جنگ ہے شیخ و برہمن میں خبر نہیں کیا سے کیا ہو دنیا جو خود کو وہ بے نقاب کر دے مرے گناہوں کی شورشیں اس لیے زیادہ رہی ہیں یا رب کہ ان کی گستاخیوں سے تو اپنے عفو کو بے حساب کر دے خدا نہ لائے وہ دن کہ تیری سنہری نیندوں میں فرق آئے مجھے تو یوں اپنے ہجر میں عمر بھر کو بیزار خواب کر دے میں جان و دل سے تصور حسن دوست کی مستیوں کے قرباں جو اک نظر میں کسی کے بے کیف آنسوؤں کو شراب کر دے عروس فطرت کا ایک کھویا ہوا تبسم ہے جس کو اخترؔ کہیں وہ چاہے شراب کر دے کہیں وہ چاہے شباب کر دے

— اختر شیرانی