سپیکرز
افراسیاب کا پیش کردہ کلام
اگر اے نسیم سحر ترا ہو گزر دیار حجاز میں
اگر اے نسیم سحر ترا ہو گزر دیار حجاز میں مری چشم تر کا سلام کہنا حضور بندہ نواز میں تمہیں حد عقل نہ پا سکی فقط اتنا حال بتا سکی کہ تم ایک جلوۂ راز تھے جو عیاں تھا رنگ حجاز میں عجب اک سرور سا چھا گیا میری روح و دل میں سما گیا ترا نام ناز سے آ گیا مرے لب پہ جب بھی نماز میں نہ جہاں میں راحت جاں ملی نہ متاع امن و اماں ملی جو دوائے درد نہاں ملی تو ملی بہشت حجاز میں کروں نذر نغمۂ جاں فزا میں کہاں سے اخترؔ غم نوا کہ سوائے نالۂ غم نہیں مرے دل کے غم زدہ ساز میں
غم خانۂ ہستی میں ہے مہماں کوئی دن اور
غم خانۂ ہستی میں ہے مہماں کوئی دن اور کر لے ہمیں تقدیر پریشاں کوئی دن اور مر جائیں گے جب ہم تو بہت یاد کرے گی جی بھر کے ستا لے شب ہجراں کوئی دن اور تربت وہ جگہ ہے کہ جہاں غم ہے نہ حیرت حیرت کدۂ غم میں ہیں حیراں کوئی دن اور یاروں سے گلہ ہے نہ عزیزوں سے شکایت تقدیر میں ہے حسرت و حرماں کوئی دن اور پامال خزاں ہونے کو ہیں مست بہاریں ہے سیر گل و حسن گلستاں کوئی دن اور ہم سا نہ ملے گا کوئی غم دوست جہاں میں تڑپا لے غم گردش دوراں کوئی دن اور قبروں کی جو راتیں ہیں وہ قبروں میں کٹیں گی آباد ہیں یہ زندہ شبستاں کوئی دن اور رنگینی و نزہت پہ نہ مغرور ہو بلبل ہے رنگ بہار چمنستاں کوئی دن اور آخر کو وہی ہم وہی ظلمات شب غم ہے نور رخ ماہ درخشاں کوئی دن اور آزاد ہوں عالم سے تو آزاد ہوں غم سے دنیا ہے ہمارے لیے زنداں کوئی دن اور ہستی کبھی قدرت کا اک احسان تھی ہم پر اب ہم پہ ہے قدرت کا یہ احساں کوئی دن اور لعنت تھی گناہوں کی ندامت مرے حق میں ہے شکر کہ اس سے ہیں پشیماں کوئی دن اور شیون کو کوئی خلد بریں میں یہ خبر دے دنیا میں اب اخترؔ بھی ہے مہماں کوئی دن اور