سپیکرز
سید جینٹلمین کا پیش کردہ کلام
تمناؤں کو زندہ آرزوؤں کو جواں کر لوں
تمناؤں کو زندہ آرزوؤں کو جواں کر لوں یہ شرمیلی نظر کہہ دے تو کچھ گستاخیاں کر لوں بہار آئی ہے بلبل درد دل کہتی ہے پھولوں سے کہو تو میں بھی اپنا درد دل تم سے بیاں کر لوں ہزاروں شوخ ارماں لے رہے ہیں چٹکیاں دل میں حیا ان کی اجازت دے تو کچھ بیباکیاں کر لوں کوئی صورت تو ہو دنیائے فانی میں بہلنے کی ٹھہر جا اے جوانی ماتم عمر رواں کر لوں چمن میں ہیں بہم پروانہ و شمع و گل و بلبل اجازت ہو تو میں بھی حال دل اپنا بیاں کر لوں کسے معلوم کب کس وقت کس پر گر پڑے بجلی ابھی سے میں چمن میں چل کر آباد آشیاں کر لوں بر آئیں حسرتیں کیا کیا اگر موت اتنی فرصت دے کہ اک بار اور زندہ شیوۂ عشق جواں کر لوں مجھے دونوں جہاں میں ایک وہ مل جائیں گر اخترؔ تو اپنی حسرتوں کو بے نیاز دو جہاں کر لوں
لا پلا ساقی شراب ارغوانی پھر کہاں
لا پلا ساقی شراب ارغوانی پھر کہاں زندگانی پھر کہاں ناداں جوانی پھر کہاں دو گھڑی مل بیٹھنے کو بھی غنیمت جانئے عمر فانی ہی سہی یہ عمر فانی پھر کہاں آ کہ ہم بھی اک ترانہ جھوم کر گاتے چلیں اس چمن کے طائروں کی ہم زبانی پھر کہاں ہے زمانہ عشق سلمیٰ میں گنوا دے زندگی یہ زمانہ پھر کہاں یہ زندگانی پھر کہاں ایک ہی بستی میں ہیں آساں ہے ملنا آ ملو کیا خبر لے جائے دور آسمانی پھر کہاں فصل گل جانے کو ہے دور خزاں آنے کو ہے یہ چمن یہ بلبلیں یہ نغمہ خوانی پھر کہاں پھول چن جی کھول کر عیش و طرب کے پھول چن موسم گل پھر کہاں فصل جوانی پھر کہاں آخری رات آ گئی جی بھر کے مل لیں آج تو تم سے ملنے دے گا دور آسمانی پھر کہاں آج آئے ہو تو سنتے جاؤ یہ تازہ غزل ورنہ اخترؔ پھر کہاں یہ شعر خوانی پھر کہاں