سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
امل خان
کو ہوسٹ
نور مائیر
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
آزاد
امید صبح
تجمل عربی
ثاقب فردوس
جاسمین
راجا اکرام قمر
ریبل
زریاب خان
سحربیاں
سید جینٹلمین
شہزاد
فاران وڑائچ
کریسنٹ
گلشن شیرازی
مبشرجاوید
محمد اویس
ملک
وقارالحسن
گلشن شیرازی کا پیش کردہ کلام
اشک میرے ہیں مگر دیدۂ نم ہے اس کا
اشک میرے ہیں مگر دیدۂ نم ہے اس کا یہ جو ہونٹوں پہ تبسم ہے کرم ہے اس کا ان کہی بات بھلا لکھوں تو لکھوں کیسے سادے کاغذ پہ کوئی راز رقم ہے اس کا فاصلے ایسے کہ اک عمر میں طے ہو نہ سکیں قربتیں ایسی کہ خود مجھ میں جنم ہے اس کا سنگ و آہن کا بڑا شہر بھی ویرانہ لگے یہ جنوں میرا ہے اور دشت ستم ہے اس کا درد بن کر مرے سینے میں پڑا رہتا ہے یہ مرا دل ہے کہ اک نقش قدم ہے اس کا؟ ایک طوفاں کی طرح کب سے کنارہ کش ہے پھر بھی باقرؔ مری نظروں میں بھرم ہے اس کا