باقر مہدی

مجھے دشمن سے اپنے عشق سا ہے باقر مہدی

24 April 2026

18سپیکرز
219لسنرز

سپیکرز

گلشن شیرازی کا پیش کردہ کلام

اشک میرے ہیں مگر دیدۂ نم ہے اس کا

اشک میرے ہیں مگر دیدۂ نم ہے اس کا یہ جو ہونٹوں پہ تبسم ہے کرم ہے اس کا ان کہی بات بھلا لکھوں تو لکھوں کیسے سادے کاغذ پہ کوئی راز رقم ہے اس کا فاصلے ایسے کہ اک عمر میں طے ہو نہ سکیں قربتیں ایسی کہ خود مجھ میں جنم ہے اس کا سنگ و آہن کا بڑا شہر بھی ویرانہ لگے یہ جنوں میرا ہے اور دشت ستم ہے اس کا درد بن کر مرے سینے میں پڑا رہتا ہے یہ مرا دل ہے کہ اک نقش قدم ہے اس کا؟ ایک طوفاں کی طرح کب سے کنارہ کش ہے پھر بھی باقرؔ مری نظروں میں بھرم ہے اس کا

— باقر مہدی