باقر مہدی

مجھے دشمن سے اپنے عشق سا ہے باقر مہدی

24 April 2026

18سپیکرز
219لسنرز

سپیکرز

آزاد کا پیش کردہ کلام

سزا

بھول جانا انہیں آسان ہے اے دل تو نے پہلے بھی کئی بار قسم کھائی ہے درد جب حد سے بڑھا ضبط کا یارا نہ رہا ان کی ایک ایک ادا یاد مجھے آئی ہے وہ تبسم میں نہاں طنز کے میٹھے نشتر وہ تکلم میں تغافل کو چھپانے کی ادا رک کے ہر لمحہ نئی طرح سے آغاز ستم جیسے کچھ کھو کے کسی چیز کو پانے کی ادا میری خاموشی پہ بے باک نگاہی ان کی جذبۂ شوق کو کچھ اور بڑھانے کی ادا وہ مسلسل مری باتوں پہ توجہ کی نظر رخ پہ مچلی ہوئی زلفوں کو ہٹانے کی ادا میرے اشعار کو سنتے ہی وہ آنکھوں میں غرور مجھ کو ہر طرح سے دیوانہ بنانے کی ادا بے خودی دیکھ کے میری وہی بیگانہ روی پاس آ آ کے بہت دور وہ جانے کی ادا رخصتی لمحوں میں ہونٹوں پہ دعاؤں کا گماں در پہ رک کر مری خاطر سے وہ جانے کی ادا آج رہ رہ کے تڑپتا ہوں نئی بات ہے کیا دل نے کیوں ترک محبت کی قسم کھائی ہے وہ ستم لاکھ کریں ان کا تو شیوہ ہے یہی عشق کی ترک محبت میں بھی رسوائی ہے اب تو جلتے ہوئے جینا ہی پڑے گا اے دل ''تو نے خود اپنے کئے کی یہ سزا پائی ہے''

— باقر مہدی