سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
امل خان
کو ہوسٹ
نور مائیر
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
آزاد
امید صبح
تجمل عربی
ثاقب فردوس
جاسمین
راجا اکرام قمر
ریبل
زریاب خان
سحربیاں
سید جینٹلمین
شہزاد
فاران وڑائچ
کریسنٹ
گلشن شیرازی
مبشرجاوید
محمد اویس
ملک
وقارالحسن
سید جینٹلمین کا پیش کردہ کلام
سادہ کاغذ پہ کوئی نام کبھی لکھ لینا!
سادہ کاغذ پہ کوئی نام کبھی لکھ لینا! ہو سکے ملنے کی اک شام کبھی لکھ لینا! یوں تو ہم اہل جنوں کچھ بھی نہیں کرتے ہیں گمرہی کا ہی سہی کام کبھی لکھ لینا! مے گساروں پہ تڑپنے کی بھی پابندی ہے تشنہ کاموں کے لیے جام کبھی لکھ لینا! کتنی روشن ہیں سمندر کی چمکتی راتیں ڈوبتی لہروں کا انجام کبھی لکھ لینا! بھوت خوابوں میں فرشتے سے نظر آتے ہیں ذہن میں اپنے یہ اوہام کبھی لکھ لینا! توڑ کے کتنی چٹانوں کو نکل آئے ہیں سارے جذبے ہیں مگر خام کبھی لکھ لینا! بک رہا ہے سر بازار ہر اک دانشور ہم سے آوارہ کے کچھ دام کبھی لکھ لینا! جرم کوئی نہیں باقرؔ کو رہا مت کرنا کچھ نہ کچھ ڈھونڈ کے الزام کبھی لکھ لینا!