باقر مہدی

مجھے دشمن سے اپنے عشق سا ہے باقر مہدی

24 April 2026

18سپیکرز
219لسنرز

سپیکرز

امل خان کا پیش کردہ کلام

ذرے کا راز مہر کو سمجھانا چاہئے

ذرے کا راز مہر کو سمجھانا چاہئے چھوٹی سی کوئی بات ہو لڑ جانا چاہئے خوابوں کی ایک ناؤ سمندر میں ڈال کے طوفاں کی موج موج سے ٹکرانا چاہئے ہر بات میں جو زہر کے نشتر لگائے ہیں ایسے ہی دل جلوں سے تو یارانہ چاہئے کیا زندگی سے بڑھ کے جہنم نہیں کوئی یہ سچ ہے پھر تو آگ میں جل جانا چاہئے دنیا وہ شاہراہ ہے بچنا محال ہے پگڈنڈیوں کو ڈھونڈ کے اپنانا چاہئے نظمیں وہ ہوں کہ چیخ پڑیں سارے اہل فن نیندیں اڑا دے سب کی وہ افسانہ چاہئے بحروں کو توڑ توڑ کے نالے میں ڈال دو بس دل کی لے میں فکر کو ڈھل جانا چاہئے یہ کہکشاں بھی ٹوٹ کے ہو مصرعوں میں جذب ذہن رسا کو اتنا تو الجھانا چاہئے ہم یولیسیسؔ بن کے بہت جی چکے مگر یارو حسینؔ بن کے بھی مر جانا چاہئے

— باقر مہدی

کیا خبر تھی کہ کبھی بے سر و ساماں ہوں گے

کیا خبر تھی کہ کبھی بے سر و ساماں ہوں گے فصل گل آتے ہی اس طرح سے ویراں ہوں گے در بدر پھرتے رہے خاک اڑاتے گزری وحشت دل ترے کیا اور بھی احساں ہوں گے راکھ ہونے لگیں جل جل کے تمنائیں مگر حسرتیں کہتی ہیں کچھ اور بھی ارماں ہوں گے یہ تو آغاز مصائب ہے نہ گھبرا اے دل ہم ابھی اور ابھی اور پریشاں ہوں گے میری دنیا میں ترے حسن کی رعنائی ہے تیرے سینے میں مرے عشق کے طوفاں ہوں گے کافری عشق کا شیوہ ہے مگر تیرے لیے اس نئے دور میں ہم پھر سے مسلماں ہوں گے لاکھ دشوار ہو ملنا مگر اے جان جہاں تجھ سے ملنے کے اسی دور میں امکاں ہوں گے تو انہی شعروں پہ جھومے گی بہ انداز دگر ہم تری بزم میں اک روز غزلخواں ہوں گے

— باقر مہدی