سپیکرز
امل خان کا پیش کردہ کلام
ذرے کا راز مہر کو سمجھانا چاہئے
ذرے کا راز مہر کو سمجھانا چاہئے چھوٹی سی کوئی بات ہو لڑ جانا چاہئے خوابوں کی ایک ناؤ سمندر میں ڈال کے طوفاں کی موج موج سے ٹکرانا چاہئے ہر بات میں جو زہر کے نشتر لگائے ہیں ایسے ہی دل جلوں سے تو یارانہ چاہئے کیا زندگی سے بڑھ کے جہنم نہیں کوئی یہ سچ ہے پھر تو آگ میں جل جانا چاہئے دنیا وہ شاہراہ ہے بچنا محال ہے پگڈنڈیوں کو ڈھونڈ کے اپنانا چاہئے نظمیں وہ ہوں کہ چیخ پڑیں سارے اہل فن نیندیں اڑا دے سب کی وہ افسانہ چاہئے بحروں کو توڑ توڑ کے نالے میں ڈال دو بس دل کی لے میں فکر کو ڈھل جانا چاہئے یہ کہکشاں بھی ٹوٹ کے ہو مصرعوں میں جذب ذہن رسا کو اتنا تو الجھانا چاہئے ہم یولیسیسؔ بن کے بہت جی چکے مگر یارو حسینؔ بن کے بھی مر جانا چاہئے
کیا خبر تھی کہ کبھی بے سر و ساماں ہوں گے
کیا خبر تھی کہ کبھی بے سر و ساماں ہوں گے فصل گل آتے ہی اس طرح سے ویراں ہوں گے در بدر پھرتے رہے خاک اڑاتے گزری وحشت دل ترے کیا اور بھی احساں ہوں گے راکھ ہونے لگیں جل جل کے تمنائیں مگر حسرتیں کہتی ہیں کچھ اور بھی ارماں ہوں گے یہ تو آغاز مصائب ہے نہ گھبرا اے دل ہم ابھی اور ابھی اور پریشاں ہوں گے میری دنیا میں ترے حسن کی رعنائی ہے تیرے سینے میں مرے عشق کے طوفاں ہوں گے کافری عشق کا شیوہ ہے مگر تیرے لیے اس نئے دور میں ہم پھر سے مسلماں ہوں گے لاکھ دشوار ہو ملنا مگر اے جان جہاں تجھ سے ملنے کے اسی دور میں امکاں ہوں گے تو انہی شعروں پہ جھومے گی بہ انداز دگر ہم تری بزم میں اک روز غزلخواں ہوں گے