باقر مہدی

مجھے دشمن سے اپنے عشق سا ہے باقر مہدی

24 April 2026

18سپیکرز
219لسنرز

سپیکرز

نور مائیر کا پیش کردہ کلام

لرز لرز کے نہ ٹوٹیں تو وہ ستارے کیا

لرز لرز کے نہ ٹوٹیں تو وہ ستارے کیا جنہیں نہ ہوش ہو غم کا وہ غم کے مارے کیا مہکتے خون سے صحرا جلے ہوئے گلشن نظر فریب ہیں دنیا کے یہ نظارے کیا امید و بیم کی یہ کشمکش ہے راز حیات سکوں نواز ہیں اس کے سوا سہارے کیا کوئی ہزار مٹائے ابھرتے آئے ہیں ہم اہل درد جنون جفا سے ہارے کیا

— باقر مہدی