باقر مہدی

مجھے دشمن سے اپنے عشق سا ہے باقر مہدی

24 April 2026

18سپیکرز
219لسنرز

سپیکرز

افتخار احمد کا پیش کردہ کلام

دشمن جاں کوئی بنا ہی نہیں

دشمن جاں کوئی بنا ہی نہیں اتنے ہم لائق جفا ہی نہیں آزما لو کہ دل کو چین آئے یہ نہ کہنا کہیں وفا ہی نہیں ہم پشیماں ہیں وہ بھی حیراں ہیں ایسا طوفاں کبھی اٹھا ہی نہیں جانے کیوں ان سے ملتے رہتے ہیں خوش وہ کیا ہوں گے جب خفا ہی نہیں تم نے اک داستاں بنا ڈالی ہم نے تو راز غم کہا ہی نہیں غم گسار اس طرح سے ملتے ہیں جیسے دنیا میں کچھ ہوا ہی نہیں اے جنوں کون سی یہ منزل ہے کیا کریں کچھ ہمیں پتا ہی نہیں موت کے دن قریب آ پہنچے ہائے ہم نے تو کچھ کیا ہی نہیں

— باقر مہدی

عجیب دل میں مرے آج اضطراب سا ہے!

عجیب دل میں مرے آج اضطراب سا ہے! کھلی ہے آنکھ سمندر بھی ایک خواب سا ہے! ٹھہر ٹھہر کے بجاتا ہے کوئی سازینہ میں کیا کروں مرے سینے میں اک رباب سا ہے! بجھے گی پیاس مری زہر آگہی سے کبھی مرے دیار میں اس کا مزا شراب سا ہے! میں کیوں کسی سے سر راہ رہبری مانگوں؟ نئی ہے منزل غم اک یہی جواب سا ہے! چمکتی ریت سے رہ رہ کے اٹھ رہی نوا کوئی مزار تھا پہلے کہ اب سراب سا ہے! ہدف بنا کے نہ رسوا کرو زمانے میں غریب شہر ہوں رتبہ مرا جناب سا ہے! میں چھوڑ آیا ہوں مدت ہوئی غریبی کو یہ میرا سایہ بڑا خانماں خراب سا ہے! نہ جانے کیسے میں سیل رواں سے بچ نکلا؟ یہ زندگی کا تماشا تو اک حباب سا ہے! میں کیسے خود کو سمجھ پاؤں بے کسی یہ ہے؟ کہ آئینہ نہیں عکسوں کا اک نقاب سا ہے! نظر ملا کے میں اس سے گزر گیا باقرؔ نہ جانے مجھ سے خفا یہ کہ لا جواب سا ہے!

— باقر مہدی

اوروں پہ اتفاق سے سبقت ملی مجھے

اوروں پہ اتفاق سے سبقت ملی مجھے بھولے سے سرکشی کی روایت ملی مجھے غیروں کی دوستی سے کسے ہمدمی ملی سب سے بچھڑ کے اپنی رفاقت ملی مجھے شہروں میں بھی سراب کی تحریر پڑھ سکا نا بینا فلسفی کی بصارت ملی مجھے بس میرا ذکر آتے ہی محفل اجڑ گئی شیطاں کے بعد دوسری شہرت ملی مجھے دنیا میں روز حشر کا ہنگام دیکھ کر محجوب سر برہنہ قیامت ملی مجھے کچھ دل خراش شعر کہے اور چل بسا ہاں زندگی میں اتنی ہی مہلت ملی مجھے سوچا تھا اپنے عہد کا اک مرثیہ لکھوں باقرؔ غزل ہی کہنے کی فرصت ملی مجھے

— باقر مہدی