سپیکرز
افتخار احمد کا پیش کردہ کلام
دشمن جاں کوئی بنا ہی نہیں
دشمن جاں کوئی بنا ہی نہیں اتنے ہم لائق جفا ہی نہیں آزما لو کہ دل کو چین آئے یہ نہ کہنا کہیں وفا ہی نہیں ہم پشیماں ہیں وہ بھی حیراں ہیں ایسا طوفاں کبھی اٹھا ہی نہیں جانے کیوں ان سے ملتے رہتے ہیں خوش وہ کیا ہوں گے جب خفا ہی نہیں تم نے اک داستاں بنا ڈالی ہم نے تو راز غم کہا ہی نہیں غم گسار اس طرح سے ملتے ہیں جیسے دنیا میں کچھ ہوا ہی نہیں اے جنوں کون سی یہ منزل ہے کیا کریں کچھ ہمیں پتا ہی نہیں موت کے دن قریب آ پہنچے ہائے ہم نے تو کچھ کیا ہی نہیں
عجیب دل میں مرے آج اضطراب سا ہے!
عجیب دل میں مرے آج اضطراب سا ہے! کھلی ہے آنکھ سمندر بھی ایک خواب سا ہے! ٹھہر ٹھہر کے بجاتا ہے کوئی سازینہ میں کیا کروں مرے سینے میں اک رباب سا ہے! بجھے گی پیاس مری زہر آگہی سے کبھی مرے دیار میں اس کا مزا شراب سا ہے! میں کیوں کسی سے سر راہ رہبری مانگوں؟ نئی ہے منزل غم اک یہی جواب سا ہے! چمکتی ریت سے رہ رہ کے اٹھ رہی نوا کوئی مزار تھا پہلے کہ اب سراب سا ہے! ہدف بنا کے نہ رسوا کرو زمانے میں غریب شہر ہوں رتبہ مرا جناب سا ہے! میں چھوڑ آیا ہوں مدت ہوئی غریبی کو یہ میرا سایہ بڑا خانماں خراب سا ہے! نہ جانے کیسے میں سیل رواں سے بچ نکلا؟ یہ زندگی کا تماشا تو اک حباب سا ہے! میں کیسے خود کو سمجھ پاؤں بے کسی یہ ہے؟ کہ آئینہ نہیں عکسوں کا اک نقاب سا ہے! نظر ملا کے میں اس سے گزر گیا باقرؔ نہ جانے مجھ سے خفا یہ کہ لا جواب سا ہے!
اوروں پہ اتفاق سے سبقت ملی مجھے
اوروں پہ اتفاق سے سبقت ملی مجھے بھولے سے سرکشی کی روایت ملی مجھے غیروں کی دوستی سے کسے ہمدمی ملی سب سے بچھڑ کے اپنی رفاقت ملی مجھے شہروں میں بھی سراب کی تحریر پڑھ سکا نا بینا فلسفی کی بصارت ملی مجھے بس میرا ذکر آتے ہی محفل اجڑ گئی شیطاں کے بعد دوسری شہرت ملی مجھے دنیا میں روز حشر کا ہنگام دیکھ کر محجوب سر برہنہ قیامت ملی مجھے کچھ دل خراش شعر کہے اور چل بسا ہاں زندگی میں اتنی ہی مہلت ملی مجھے سوچا تھا اپنے عہد کا اک مرثیہ لکھوں باقرؔ غزل ہی کہنے کی فرصت ملی مجھے