باقر مہدی

مجھے دشمن سے اپنے عشق سا ہے باقر مہدی

24 April 2026

18سپیکرز
219لسنرز

سپیکرز

ملک کا پیش کردہ کلام

میں بھاگ کے جاؤں گا کہاں اپنے وطن سے

میں بھاگ کے جاؤں گا کہاں اپنے وطن سے جیتا ہوں مصائب کی بقا میرے لیے ہے سچ بولنے والے کو ڈراتے ہو ستم سے رک جاؤ ٹھہر جاؤ جزا میرے لیے ہے افسوس کٹی عمر کتب خانوں میں لیکن یہ وسعت صحرا یہ فضا میرے لیے ہے میں راہ یگانہ پہ ہمیشہ سے چلا ہوں رسوائی تباہی تو سدا میرے لیے ہے مجرم ہوں کہ فاشزم کے سائے میں ہوں جیتا باقرؔ کو بچا لو یہ سزا میرے لیے ہے

— باقر مہدی