سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
امل خان
کو ہوسٹ
نور مائیر
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
آزاد
امید صبح
تجمل عربی
ثاقب فردوس
جاسمین
راجا اکرام قمر
ریبل
زریاب خان
سحربیاں
سید جینٹلمین
شہزاد
فاران وڑائچ
کریسنٹ
گلشن شیرازی
مبشرجاوید
محمد اویس
ملک
وقارالحسن
مبشرجاوید کا پیش کردہ کلام
کسی پہ کوئی بھروسہ کرے تو کیسے کرے (ردیف .. ا)
کسی پہ کوئی بھروسہ کرے تو کیسے کرے کہ آنسوؤں کے سوا اور کوئی کیا دے گا بہت ہوا تو تبسم کے چند پھولوں کو نگاہ شوخ کے ہاتھوں سے بے وفا دے گا چلے تو جاتے ہو روٹھے ہوئے مگر سن لو ہر ایک موڑ پہ کوئی تمہیں صدا دے گا عجیب منزل حیرت میں ہے جہان خراب کہ جیسے ہم سے دوانوں کو بھی سزا دے گا ہمارے شعر میں پنہاں ہے روشنی غم کی ذرا سنو تو سر شام یہ ضیا دے گا