باقر مہدی

مجھے دشمن سے اپنے عشق سا ہے باقر مہدی

24 April 2026

18سپیکرز
219لسنرز

سپیکرز

مبشرجاوید کا پیش کردہ کلام

کسی پہ کوئی بھروسہ کرے تو کیسے کرے (ردیف .. ا)

کسی پہ کوئی بھروسہ کرے تو کیسے کرے کہ آنسوؤں کے سوا اور کوئی کیا دے گا بہت ہوا تو تبسم کے چند پھولوں کو نگاہ شوخ کے ہاتھوں سے بے وفا دے گا چلے تو جاتے ہو روٹھے ہوئے مگر سن لو ہر ایک موڑ پہ کوئی تمہیں صدا دے گا عجیب منزل حیرت میں ہے جہان خراب کہ جیسے ہم سے دوانوں کو بھی سزا دے گا ہمارے شعر میں پنہاں ہے روشنی غم کی ذرا سنو تو سر شام یہ ضیا دے گا

— باقر مہدی