باقر مہدی

مجھے دشمن سے اپنے عشق سا ہے باقر مہدی

24 April 2026

18سپیکرز
219لسنرز

سپیکرز

جاسمین کا پیش کردہ کلام

بدل کے رکھ دیں گے یہ تصور کہ آدمی کا وقار کیا ہے

بدل کے رکھ دیں گے یہ تصور کہ آدمی کا وقار کیا ہے خلا میں وہ چاند ناچتا ہے زماں مکاں کا حصار کیا ہے بہک گئے تھے سنبھل گئے ہیں ستم کی حد سے نکل گئے ہیں ہم اہل دل یہ سمجھ گئے ہیں کشاکش روزگار کیا ہے ابھی نہ پوچھو کہ لالہ زاروں سے اٹھ رہا ہے دھواں وہ کیسا مگر یہ دیکھو کہ پھول بننے کا آرزو مند خار کیا ہے وہی بنے دشمن تمنا جنہیں سکھایا تھا ہم نے جینا اگر یہ پوچھیں تو کس سے پوچھیں کہ دوستی کا شعار کیا ہے کبھی ہے شبنم کبھی شرارا فلک سے ٹوٹا تو ایک تارا غم محبت کے رازدارو یہ گوہر آبدار کیا ہے بہار کی تم نئی کلی ہو ابھی ابھی جھوم کر کھلی ہو مگر کبھی ہم سے یوں ہی پوچھو کہ حسرتوں کا مزار کیا ہے بہ ایں تباہی دکھائے ہم نے وہ معجزے عاشقی کے تم کو بہ ایں عداوت کبھی نہ کہنا کہ آپ سا خاکسار کیا ہے بنے کوئی علم و فن کا مالک کہ میں ہوں راہ وفا کا سالک نہیں ہے شہرت کی فکر باقرؔ غزل کا اک رازدار کیا ہے

— باقر مہدی