سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
ملک
کو ہوسٹ
نور مائیر
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
انتظار حسین
حماد ابراہیم
رابعہ
راجا اکرام قمر
سجاد وٹو
سید جینٹلمین
صباگل
فخر
مرزا جواد
ندیم بخاری
واجد علی
وقاراحسن
حماد ابراہیم کا پیش کردہ کلام
کبھی کہا نہ کسی سے ترے فسانے کو
کبھی کہا نہ کسی سے ترے فسانے کو نہ جانے کیسے خبر ہو گئی زمانے کو دعا بہار کی مانگی تو اتنے پھول کھلے کہیں جگہ نہ رہی میرے آشیانے کو مری لحد پہ پتنگوں کا خون ہوتا ہے حضور شمع نہ لایا کریں جلانے کو سنا ہے غیر کی محفل میں تم نہ جاؤ گے کہو تو آج سجا لوں غریب خانے کو دبا کے قبر میں سب چل دیئے دعا نہ سلام ذرا سی دیر میں کیا ہو گیا زمانے کو اب آگے اس میں تمہارا بھی نام آئے گا جو حکم ہو تو یہیں چھوڑ دوں فسانے کو قمرؔ ذرا بھی نہیں تم کو خوف رسوائی چلے ہو چاندنی شب میں انہیں بلانے کو