قمرجلالوی

قیامت کا دن آ گیا رفتہ رفتہ ملاقات کا دن بدلتے بدلتے (قمرجلالوی)

22 November 2025

12سپیکرز
177لسنرز

سپیکرز

انتظار حسین کا پیش کردہ کلام

پیتے ہی سرخ آنکھیں ہیں مست شراب کی

پیتے ہی سرخ آنکھیں ہیں مست شراب کی گرمی تو دیکھو ڈوبے ہوئے آفتاب کی رخ سے جدا جو حشر میں تم نے نقاب کی دنیا یہ تاب لائے گی دو آفتاب کی ساقی یہ رقم سچ ہے جو مجھ پر حساب کی بوتل پہ ہاتھ رکھ کے قسم کھا شراب کی کیا کم تھا حسن باغ کہ اے باغبان حسن اک شاخ تو نے اور لگا دی شباب کی وہ تو رہا کلیم کے اصرار کا جواب اور یہ جو تو نے طور کی مٹی خراب کی موسیٰ کو اس نے سر پہ چڑھایا بھی تھا بہت جلوے نے خوب طور کی مٹی خراب کی پھیرو نہ آنکھیں تم مرے اشکوں کے جوش پر طوفاں میں ڈوبتی نہیں کشتی حباب کی اللہ اس کا کچھ بھی جوانی پہ حق نہیں برسوں دعائیں مانگی ہیں جس نے شباب کی رکھیے معاف شیخ جی مسجد میں ہجو مے باتیں خدا کے گھر میں نہ کیجے شراب کی باغ جہاں میں اور بھی تم سے تو ہیں مگر ہر پھول میں نہیں ہے نزاکت گلاب کی جب سے گئے ہیں دیکھ کے تارے وہ اے قمرؔ صورت بدل گئی ہے شب ماہتاب کی

— قمرجلالوی