قمرجلالوی

قیامت کا دن آ گیا رفتہ رفتہ ملاقات کا دن بدلتے بدلتے (قمرجلالوی)

22 November 2025

12سپیکرز
177لسنرز

سپیکرز

ملک کا پیش کردہ کلام

نہ جاؤ گھر ابھی تو رات ہے بادل بھی کالے ہیں

نہ جاؤ گھر ابھی تو رات ہے بادل بھی کالے ہیں اذاں سمجھے ہو تم جس کو کسی بےکس کے نالے ہیں تم اپنے ظلم کا محشر میں کر لو ان سے اندازہ یہ جتنے ہیں خدا کے سامنے فریاد والے ہیں قمرؔ تسبیح پڑھتے جا رہے ہیں سوئے مے خانہ کوئی دیکھے تو یہ سمجھے بڑے اللہ والے ہیں

— قمرجلالوی

نہ رکتے ہیں آنسو نہ تھمتے ہیں نالے

نہ رکتے ہیں آنسو نہ تھمتے ہیں نالے کہو کوئی کیسے محبت چھپا لے کرے کوئی کیا گر وہ آئیں یکایک نگاہوں کو روکے کہ دل کو سنبھالے چمن والے بجلی سے بولے نہ چالے غریبوں کے گھر بے خطا پھونک ڈالے قیامت ہیں ظالم کی نیچی نگاہیں خدا جانے کیا ہو جو نظریں اٹھا لے کروں ایسا سجدہ وہ گھبرا کے کہہ دیں خدا کے لیے اب تو سر کو اٹھا لے تمہیں بندہ پرور ہمیں جانتے ہیں بڑے سیدھے سادھے بڑے بھولے بھالے بس اتنی سی دوری یہ میں ہوں یہ منزل کہاں آ کے پھوٹے ہیں پاؤں کے چھالے قمرؔ میں ہوں مختار تنظیم شب کا ہیں میرے ہی بس میں اندھیرے اجالے

— قمرجلالوی