قمرجلالوی

قیامت کا دن آ گیا رفتہ رفتہ ملاقات کا دن بدلتے بدلتے (قمرجلالوی)

22 November 2025

12سپیکرز
177لسنرز

سپیکرز

راجا اکرام قمر کا پیش کردہ کلام

دریا دلی کہوں تری کیا ساقیا کہ بس

دریا دلی کہوں تری کیا ساقیا کہ بس پیمانہ اپنے منہ سے خود بول اٹھا کہ بس ذکر شب الم پہ کلیجہ پکڑ لیا کچھ اور بھی سنوگے مرا ماجرا کہ بس اللہ جانے غیر سے کیا گفتگو ہوئی اتنا تو بھی آیا تھا سنتا ہوا کہ بس اور سنگ دل تھے وہ مگر آنسو نکل پڑے اس بے کسی سے میرا جنازہ اٹھا کہ بس اچھا تری گلی سے میں جاتا ہوں باغباں کچھ اور کہنے سننے کو باقی ہے یا کہ بس شب بھر ترے مریض کا عالم یہی رہا نبضوں پہ جس نے ہاتھ رکھا کہہ دیا کہ بس دن ہو کہ رات رونے سے مطلب ہمیں قمرؔ دل دے کے ان کو ایسا نتیجہ ملا کہ بس

— قمرجلالوی

چمن روئے ہنسے شبنم بیاباں پر نکھار آئے

چمن روئے ہنسے شبنم بیاباں پر نکھار آئے اِک ایسا بھی نیا موسم مِرے پروردگار آئے وہ سر کھولے ہماری لاش پر دیوانہ وار آئے اِسی کو موت کہتے ہیں تو یارب باربار آئے سرِ گورِ غریباں آؤ لیکن یہ گزارش ہے وہاں منہ پھیر کر رونا جہاں میرا مزار آئے بہا اے چشمِ تر ایسا بھی اِک آنسو ندامت کا جسے دامن پہ لینے رحمتِ پروردگار آئے قفس کے ہولئے ہم تو مگر اے اہلِ گلشن تم ہمیں بھی یاد کرلینا چمن میں جب بہار آئے نہ جانے کیا سمجھ کر چُپ ہوں اے صیّاد میں ورنہ وہ قیدی ہوں اگر چاہوں قفس میں بھی بہار آئے قمر دِل کیا ہے میں تو اُن کی خاطر جان بھی دیدوں مِری قسمت اگر اُن کو نہ پھر بھی اعتبار آئے

— قمرجلالوی

شیخ آخر یہ صراحی ہے کوئی خم تو نہیں

شیخ آخر یہ صراحی ہے کوئی خم تو نہیں اور بھی بیٹھے ہیں محفل میں ہمیں تم تو نہیں نا خدا ہوش میں آ ہوش ترے گم تو نہیں یہ تو ساحل کے ہیں آثار تلاطم تو نہیں ناز و انداز و ادا ہونٹوں پہ ہلکی سی ہنسی تیری تصویر میں سب کچھ ہے تکلم تو نہیں دیکھ انجام محبت کا برا ہوتا ہے مجھ سے دنیا یہی کہتی ہے بس اک تم تو نہیں مسکراتے ہیں سلیقے سے چمن میں غنچے تم سے سیکھا ہوا انداز تبسم تو نہیں اب یہ منصور کو دی جاتی ہے ناحق سولی حق کی پوچھو تو وہ انداز تکلم تو نہیں چاندنی رات کا کیا لطف قمرؔ کو آئے لاکھ تاروں کی بہاریں ہیں مگر تم تو نہیں

— قمرجلالوی