سپیکرز
راجا اکرام قمر کا پیش کردہ کلام
دریا دلی کہوں تری کیا ساقیا کہ بس
دریا دلی کہوں تری کیا ساقیا کہ بس پیمانہ اپنے منہ سے خود بول اٹھا کہ بس ذکر شب الم پہ کلیجہ پکڑ لیا کچھ اور بھی سنوگے مرا ماجرا کہ بس اللہ جانے غیر سے کیا گفتگو ہوئی اتنا تو بھی آیا تھا سنتا ہوا کہ بس اور سنگ دل تھے وہ مگر آنسو نکل پڑے اس بے کسی سے میرا جنازہ اٹھا کہ بس اچھا تری گلی سے میں جاتا ہوں باغباں کچھ اور کہنے سننے کو باقی ہے یا کہ بس شب بھر ترے مریض کا عالم یہی رہا نبضوں پہ جس نے ہاتھ رکھا کہہ دیا کہ بس دن ہو کہ رات رونے سے مطلب ہمیں قمرؔ دل دے کے ان کو ایسا نتیجہ ملا کہ بس
چمن روئے ہنسے شبنم بیاباں پر نکھار آئے
چمن روئے ہنسے شبنم بیاباں پر نکھار آئے اِک ایسا بھی نیا موسم مِرے پروردگار آئے وہ سر کھولے ہماری لاش پر دیوانہ وار آئے اِسی کو موت کہتے ہیں تو یارب باربار آئے سرِ گورِ غریباں آؤ لیکن یہ گزارش ہے وہاں منہ پھیر کر رونا جہاں میرا مزار آئے بہا اے چشمِ تر ایسا بھی اِک آنسو ندامت کا جسے دامن پہ لینے رحمتِ پروردگار آئے قفس کے ہولئے ہم تو مگر اے اہلِ گلشن تم ہمیں بھی یاد کرلینا چمن میں جب بہار آئے نہ جانے کیا سمجھ کر چُپ ہوں اے صیّاد میں ورنہ وہ قیدی ہوں اگر چاہوں قفس میں بھی بہار آئے قمر دِل کیا ہے میں تو اُن کی خاطر جان بھی دیدوں مِری قسمت اگر اُن کو نہ پھر بھی اعتبار آئے
شیخ آخر یہ صراحی ہے کوئی خم تو نہیں
شیخ آخر یہ صراحی ہے کوئی خم تو نہیں اور بھی بیٹھے ہیں محفل میں ہمیں تم تو نہیں نا خدا ہوش میں آ ہوش ترے گم تو نہیں یہ تو ساحل کے ہیں آثار تلاطم تو نہیں ناز و انداز و ادا ہونٹوں پہ ہلکی سی ہنسی تیری تصویر میں سب کچھ ہے تکلم تو نہیں دیکھ انجام محبت کا برا ہوتا ہے مجھ سے دنیا یہی کہتی ہے بس اک تم تو نہیں مسکراتے ہیں سلیقے سے چمن میں غنچے تم سے سیکھا ہوا انداز تبسم تو نہیں اب یہ منصور کو دی جاتی ہے ناحق سولی حق کی پوچھو تو وہ انداز تکلم تو نہیں چاندنی رات کا کیا لطف قمرؔ کو آئے لاکھ تاروں کی بہاریں ہیں مگر تم تو نہیں