سپیکرز
سید جینٹلمین کا پیش کردہ کلام
چمن روئے ہنسے شبنم بیاباں پر نکھار آئے
چمن روئے ہنسے شبنم بیاباں پر نکھار آئے اِک ایسا بھی نیا موسم مِرے پروردگار آئے وہ سر کھولے ہماری لاش پر دیوانہ وار آئے اِسی کو موت کہتے ہیں تو یارب باربار آئے سرِ گورِ غریباں آؤ لیکن یہ گزارش ہے وہاں منہ پھیر کر رونا جہاں میرا مزار آئے بہا اے چشمِ تر ایسا بھی اِک آنسو ندامت کا جسے دامن پہ لینے رحمتِ پروردگار آئے قفس کے ہولئے ہم تو مگر اے اہلِ گلشن تم ہمیں بھی یاد کرلینا چمن میں جب بہار آئے نہ جانے کیا سمجھ کر چُپ ہوں اے صیّاد میں ورنہ وہ قیدی ہوں اگر چاہوں قفس میں بھی بہار آئے قمر دِل کیا ہے میں تو اُن کی خاطر جان بھی دیدوں مِری قسمت اگر اُن کو نہ پھر بھی اعتبار آئے
باغ عالم میں رہے شادی و ماتم کی طرح
باغ عالم میں رہے شادی و ماتم کی طرح پھول کی طرح ہنسے رو دئے شبنم کی طرح شکوہ کرتے ہو خوشی تم سے منائی نہ گئی ہم سے غم بھی تو منایا نہ گیا غم کی طرح روز محفل سے اٹھاتے ہو تو دل دکھتا ہے اب نکلواؤ تو پھر حضرت آدم کی طرح لاکھ ہم رند سہی حضرت واعظ لیکن آج تک ہم نے نہ پی قبلۂ عالم کی طرح تیرے انداز جراحت کے نثار اے قاتل خون زخموں پہ نظر آتا ہے مرہم کی طرح خوف دل سے نہ گیا صبح کے ہونے کا قمرؔ وصل کی رات گزاری ہے شب غم کی طرح