قمرجلالوی

قیامت کا دن آ گیا رفتہ رفتہ ملاقات کا دن بدلتے بدلتے (قمرجلالوی)

22 November 2025

12سپیکرز
177لسنرز

سپیکرز

سید جینٹلمین کا پیش کردہ کلام

چمن روئے ہنسے شبنم بیاباں پر نکھار آئے

چمن روئے ہنسے شبنم بیاباں پر نکھار آئے اِک ایسا بھی نیا موسم مِرے پروردگار آئے وہ سر کھولے ہماری لاش پر دیوانہ وار آئے اِسی کو موت کہتے ہیں تو یارب باربار آئے سرِ گورِ غریباں آؤ لیکن یہ گزارش ہے وہاں منہ پھیر کر رونا جہاں میرا مزار آئے بہا اے چشمِ تر ایسا بھی اِک آنسو ندامت کا جسے دامن پہ لینے رحمتِ پروردگار آئے قفس کے ہولئے ہم تو مگر اے اہلِ گلشن تم ہمیں بھی یاد کرلینا چمن میں جب بہار آئے نہ جانے کیا سمجھ کر چُپ ہوں اے صیّاد میں ورنہ وہ قیدی ہوں اگر چاہوں قفس میں بھی بہار آئے قمر دِل کیا ہے میں تو اُن کی خاطر جان بھی دیدوں مِری قسمت اگر اُن کو نہ پھر بھی اعتبار آئے

— قمرجلالوی

باغ عالم میں رہے شادی و ماتم کی طرح

باغ عالم میں رہے شادی و ماتم کی طرح پھول کی طرح ہنسے رو دئے شبنم کی طرح شکوہ کرتے ہو خوشی تم سے منائی نہ گئی ہم سے غم بھی تو منایا نہ گیا غم کی طرح روز محفل سے اٹھاتے ہو تو دل دکھتا ہے اب نکلواؤ تو پھر حضرت آدم کی طرح لاکھ ہم رند سہی حضرت واعظ لیکن آج تک ہم نے نہ پی قبلۂ عالم کی طرح تیرے انداز جراحت کے نثار اے قاتل خون زخموں پہ نظر آتا ہے مرہم کی طرح خوف دل سے نہ گیا صبح کے ہونے کا قمرؔ وصل کی رات گزاری ہے شب غم کی طرح

— قمرجلالوی