قمرجلالوی

قیامت کا دن آ گیا رفتہ رفتہ ملاقات کا دن بدلتے بدلتے (قمرجلالوی)

22 November 2025

12سپیکرز
177لسنرز

سپیکرز

واجد علی کا پیش کردہ کلام

اس تفکر میں سرِ بزم سحر ہوتی ہے

اس تفکر میں سرِ بزم سحر ہوتی ہے کس کو وہ دیکھتے ہیں کس پہ نظر ہوتی ہے مسکرا کر مجھے یوں دیکھ کے دھوکا تو دو جانتا ہوں جو محبت کی نظر ہوتی ہے تم کیا چیز ہو کونین سمٹ آتے ہیں ایک وہ بھی کششِ ذوقِ نظر ہوتی ہے آئینہ دیکھنے والے یہ خبر ہے تجھ کو کبھی انسان پہ اپنی ہی نظر ہوتی ہے تم مرے سامنے گیسو کو سنوارا نہ کرو تم تو اٹھ جاتے ہو دنیا مرے سر ہوتی ہے عشق میں وجہ تباہی نہیں ہوتا کوئی اپنا دل ہوتا ہے یا اپنی نظر ہوتی ہے نزع میں سامنے بیمار کے تم بھی آؤ یہ وہ عالم ہے اک اک پہ نظر ہوتی ہے دل تڑپتا ہے تو پھر جاتی ہے موت آنکھوں میں کس غضب کی خلشِ تیرِ نظر ہوتی ہے جان دے دیں گے کسی دامنِ صحرا میں قمر مر گیا کون کہاں کس کو خبر ہوتی ہے

— قمرجلالوی

مریض محبت انہیں کا فسانہ سناتا رہا دم نکلتے نکلتے

مریض محبت انہیں کا فسانہ سناتا رہا دم نکلتے نکلتے مگر ذکر شام الم کا جب آیا چراغ سحر بجھ گیا جلتے جلتے انہیں خط میں لکھا تھا دل مضطرب ہے جواب ان کا آیا محبت نہ کرتے تمہیں دل لگانے کو کس نے کہا تھا بہل جائے گا دل بہلتے بہلتے مجھے اپنے دل کی تو پروا نہیں ہے مگر ڈر رہا ہوں کہ بچپن کی ضد ہے کہیں پائے نازک میں موچ آ نہ جائے دل سخت جان کو مسلتے مسلتے بھلا کوئی وعدہ خلافی کی حد ہے حساب اپنے دل میں لگا کر تو سوچو قیامت کا دن آ گیا رفتہ رفتہ ملاقات کا دن بدلتے بدلتے ارادہ تھا ترک محبت کا لیکن فریب تبسم میں پھر آ گئے ہم ابھی کھا کے ٹھوکر سنبھلنے نہ پائے کہ پھر کھائی ٹھوکر سنبھلتے سنبھلتے بس اب صبر کر رہرو راہ الفت کہ تیرے مقدر میں منزل نہیں ہے ادھر سامنے سر پہ شام آ رہی ہے ادھر تھک گئے پاؤں بھی چلتے چلتے وہ مہمان میرے ہوئے بھی تو کب تک ہوئی شمع گل اور نہ ڈوبے ستارے قمرؔ اس قدر ان کو جلدی تھی گھر کی کہ گھر چل دئے چاندنی ڈھلتے ڈھلتے

— قمرجلالوی