سپیکرز
وقاراحسن کا پیش کردہ کلام
اے مرے ہم نشیں چل کہیں اور چل اس چمن میں اب اپنا گزارہ نہیں
اے مرے ہم نشیں چل کہیں اور چل اس چمن میں اب اپنا گزارہ نہیں بات ہوتی گلوں تک تو سہہ لیتے ہم اب تو کانٹوں پہ بھی حق ہمارا نہیں آج آئے ہو تم کل چلے جاؤ گے یہ محبت کو اپنی گوارہ نہیں عمر بھر کا سہارا بنو تو بنو دو گھڑی کا سہارا سہارا نہیں دی صدا دار پر اور کبھی طور پر کس جگہ میں نے تم کو پکارا نہیں ٹھوکریں یوں کھلانے سے کیا فائدہ صاف کہہ دو کہ ملنا گوارہ نہیں گلستاں کو لہو کی ضرورت پڑی سب سے پہلے ہی گردن ہماری کٹی پھر بھی کہتے ہیں مجھ سے ی اہل چمن ی چمن ہے ہمارا تمہارا نہیں ظالمو اپنی قسمت پہ نازاں نہ ہو دور بدلے گا یہ وقت کی بات ہے وہ یقیناً سنے گا صدائیں مری کیا تمہارا خدا ہے ہمارا نہیں اپنی زلفوں کو رخ سے ہٹا لیجیے مرا ذوق نظر آزما لیجیے آج گھر سے چلا ہوں یہی سوچ کر یا تو نذریں نہیں یا نظارہ نہیں جانے کس کی لگن کس کے دھن میں مگن ہم کو جاتے ہوئے مڑ کے دیکھا نہیں ہم نے آواز پر تم کو آواز دی پھر بھی کہتے ہیں ہم نے پکارا نہیں
کب میرا نشیمن اہل چمن گلشن میں گوارا کرتے ہیں
کب میرا نشیمن اہل چمن گلشن میں گوارا کرتے ہیں غنچے اپنی آوازوں میں بجلی کو پکارا کرتے ہیں اب نزع کا عالم ہے مجھ پر تم اپنی محبت واپس لو جب کشتی ڈوبنے لگتی ہے تو بوجھ اتارا کرتے ہیں جاتی ہوئی میت دیکھ کے بھی واللہ تم اٹھ کے آ نہ سکے دو چار قدم تو دشمن بھی تکلیف گوارا کرتے ہیں بے وجہ نہ جانے کیوں ضد ہے ان کو شب فرقت والوں سے وہ رات بڑھا دینے کے لیے گیسو کو سنوارا کرتے ہیں پونچھو نہ عرق رخساروں سے رنگینئ حسن کو بڑھنے دو سنتے ہیں کہ شبنم کے قطرے پھولوں کو نکھارا کرتے ہیں کچھ حسن و عشق میں فرق نہیں ہے بھی تو فقط رسوائی کا تم ہو کہ گوارا کر نہ سکے ہم ہیں کہ گوارا کرتے ہیں تاروں کی بہاروں میں بھی قمرؔ تم افسردہ سے رہتے ہو پھولوں کو تو دیکھو کانٹوں میں ہنس ہنس کے گزارا کرتے ہیں