قمرجلالوی

قیامت کا دن آ گیا رفتہ رفتہ ملاقات کا دن بدلتے بدلتے (قمرجلالوی)

22 November 2025

12سپیکرز
177لسنرز

سپیکرز

وقاراحسن کا پیش کردہ کلام

اے مرے ہم نشیں چل کہیں اور چل اس چمن میں اب اپنا گزارہ نہیں

اے مرے ہم نشیں چل کہیں اور چل اس چمن میں اب اپنا گزارہ نہیں بات ہوتی گلوں تک تو سہہ لیتے ہم اب تو کانٹوں پہ بھی حق ہمارا نہیں آج آئے ہو تم کل چلے جاؤ گے یہ محبت کو اپنی گوارہ نہیں عمر بھر کا سہارا بنو تو بنو دو گھڑی کا سہارا سہارا نہیں دی صدا دار پر اور کبھی طور پر کس جگہ میں نے تم کو پکارا نہیں ٹھوکریں یوں کھلانے سے کیا فائدہ صاف کہہ دو کہ ملنا گوارہ نہیں گلستاں کو لہو کی ضرورت پڑی سب سے پہلے ہی گردن ہماری کٹی پھر بھی کہتے ہیں مجھ سے ی اہل چمن ی چمن ہے ہمارا تمہارا نہیں ظالمو اپنی قسمت پہ نازاں نہ ہو دور بدلے گا یہ وقت کی بات ہے وہ یقیناً سنے گا صدائیں مری کیا تمہارا خدا ہے ہمارا نہیں اپنی زلفوں کو رخ سے ہٹا لیجیے مرا ذوق نظر آزما لیجیے آج گھر سے چلا ہوں یہی سوچ کر یا تو نذریں نہیں یا نظارہ نہیں جانے کس کی لگن کس کے دھن میں مگن ہم کو جاتے ہوئے مڑ کے دیکھا نہیں ہم نے آواز پر تم کو آواز دی پھر بھی کہتے ہیں ہم نے پکارا نہیں

— قمرجلالوی

کب میرا نشیمن اہل چمن گلشن میں گوارا کرتے ہیں

کب میرا نشیمن اہل چمن گلشن میں گوارا کرتے ہیں غنچے اپنی آوازوں میں بجلی کو پکارا کرتے ہیں اب نزع کا عالم ہے مجھ پر تم اپنی محبت واپس لو جب کشتی ڈوبنے لگتی ہے تو بوجھ اتارا کرتے ہیں جاتی ہوئی میت دیکھ کے بھی واللہ تم اٹھ کے آ نہ سکے دو چار قدم تو دشمن بھی تکلیف گوارا کرتے ہیں بے وجہ نہ جانے کیوں ضد ہے ان کو شب فرقت والوں سے وہ رات بڑھا دینے کے لیے گیسو کو سنوارا کرتے ہیں پونچھو نہ عرق رخساروں سے رنگینئ حسن کو بڑھنے دو سنتے ہیں کہ شبنم کے قطرے پھولوں کو نکھارا کرتے ہیں کچھ حسن و عشق میں فرق نہیں ہے بھی تو فقط رسوائی کا تم ہو کہ گوارا کر نہ سکے ہم ہیں کہ گوارا کرتے ہیں تاروں کی بہاروں میں بھی قمرؔ تم افسردہ سے رہتے ہو پھولوں کو تو دیکھو کانٹوں میں ہنس ہنس کے گزارا کرتے ہیں

— قمرجلالوی