قمرجلالوی

قیامت کا دن آ گیا رفتہ رفتہ ملاقات کا دن بدلتے بدلتے (قمرجلالوی)

22 November 2025

12سپیکرز
177لسنرز

سپیکرز

صباگل کا پیش کردہ کلام

سوال چھوڑ کہ حالت یہ کیوں بنائی ہے

سوال چھوڑ کہ حالت یہ کیوں بنائی ہے اسے نہ سن جو کہانی سنی سنائی ہے پتنگا شمع پہ مرتا ہے کیا برائی ہے اسے کسی نے بھی روکا ہے جس کی آئی ہے ہنسے ہیں گل نہ کلی کوئی مسکرائی ہے حضور کیسے یہ کہہ دوں بہار آئی ہے ضرور کوئی علامت قضا کی پائی ہے مجھے عزیزوں نے صورت تری دکھائی ہے نہ جانے ہجر کی رات اور مری سیہ بختی کہاں کہاں کے اندھیرے سمیٹ لائی ہے لحد سے کب اٹھیں دیکھو مسافران عدم سفر ہے دور کا رستے میں نیند آئی ہے اسیر کیا کہیں صیاد یہ تو سمجھا دے قفس میں بوئے چمن پوچھنے کو آئی ہے مجھے نہ چھیڑ قیامت ہے میری آہوں میں خدا رکھے تری محفل سجی سجائی ہے

— قمرجلالوی