سپیکرز
فائیٹر کا پیش کردہ کلام
اگلی گلی میں رہتا ہے اور ملنے تک نہیں آتا ہے
اگلی گلی میں رہتا ہے اور ملنے تک نہیں آتا ہے کہتا ہے تکلف کیا کرنا ہم تم میں تو پیار کا ناتا ہے کہتا ہے زیادہ ملنے سے وعدوں کی خلش بڑھ جائے گی کچھ وعدے وقت پہ بھی چھوڑو دیکھو وہ کیا دکھلاتا ہے کہتا ہے تمہارا دوش نہ تھا کچھ ہم کو بھی اپنا ہوش نہ تھا پھر ہنستا ہے پھر روتا ہے پھر چپ ہو کر رہ جاتا ہے خود اس سے کہا گھر آنے کو اور اس کے بنا مر جانے کو اور اب جو وہ کچھ آوارہ ہوا جی رہ رہ کر گھبراتا ہے اے بچو اے ہنسنے والو تاریخ محبت پڑھ ڈالو دل والے کے دل پر قید نہیں ہر عمر میں ٹھوکر کھاتا ہے
کچھ دن گزرے عالیؔ صاحب عالیؔ جی کہلاتے تھے
کچھ دن گزرے عالیؔ صاحب عالیؔ جی کہلاتے تھے محفل محفل قریہ قریہ شعر سناتے جاتے تھے قدر سخن ہم کیا جانیں ہاں رنگ سخن کچھ ایسا تھا اچھے اچھے کہنے والے اپنے پاس بٹھاتے تھے غزلوں میں سو رنگ ملا کر اپنا رنگ ابھارا تھا استادوں کے سائے میں کچھ اپنی راہ بناتے تھے گیتوں میں کچھ اور نہ ہو اک کیفیت سی رہتی تھی جب بھی مصرعے رقصاں ہوتے معنی ساز بجاتے تھے دوہے کہنے اور پڑھنے کا ایسا طرز نکالا تھا سننے والے سر دھنتے تھے اور پہروں پڑھواتے تھے سامنے بیٹھی سندر ناریں آپ طلب بن جاتی تھیں پردوں میں سے فرمائش کے سو سو پرچے آتے تھے ''غزلیں دوہے گیت'' کی شہرت ملک سے باہر پھیلی تھی ہندوستاں سے آنے والے تحفوں میں لے جاتے تھے اہل ہنر کی خوشہ چینی ان کو وجہ سعادت تھی بے ہنروں میں اپنی انا کا پرچم بھی لہراتے تھے پھر دیکھا کہ بچہ بچہ ہنستا تھا اور عالیؔ جی فردیں لکھتے مسلیں پڑھتے بیٹھے گلڈ چلاتے تھے