جمیل الدین عالی

تیرے خیال کے دیوارودر بناتے ہیں جمیل الدین عالی

08 January 2026

17سپیکرز
299لسنرز

سپیکرز

فائیٹر کا پیش کردہ کلام

اگلی گلی میں رہتا ہے اور ملنے تک نہیں آتا ہے

اگلی گلی میں رہتا ہے اور ملنے تک نہیں آتا ہے کہتا ہے تکلف کیا کرنا ہم تم میں تو پیار کا ناتا ہے کہتا ہے زیادہ ملنے سے وعدوں کی خلش بڑھ جائے گی کچھ وعدے وقت پہ بھی چھوڑو دیکھو وہ کیا دکھلاتا ہے کہتا ہے تمہارا دوش نہ تھا کچھ ہم کو بھی اپنا ہوش نہ تھا پھر ہنستا ہے پھر روتا ہے پھر چپ ہو کر رہ جاتا ہے خود اس سے کہا گھر آنے کو اور اس کے بنا مر جانے کو اور اب جو وہ کچھ آوارہ ہوا جی رہ رہ کر گھبراتا ہے اے بچو اے ہنسنے والو تاریخ محبت پڑھ ڈالو دل والے کے دل پر قید نہیں ہر عمر میں ٹھوکر کھاتا ہے

— جمیل الدین عالی

کچھ دن گزرے عالیؔ صاحب عالیؔ جی کہلاتے تھے

کچھ دن گزرے عالیؔ صاحب عالیؔ جی کہلاتے تھے محفل محفل قریہ قریہ شعر سناتے جاتے تھے قدر سخن ہم کیا جانیں ہاں رنگ سخن کچھ ایسا تھا اچھے اچھے کہنے والے اپنے پاس بٹھاتے تھے غزلوں میں سو رنگ ملا کر اپنا رنگ ابھارا تھا استادوں کے سائے میں کچھ اپنی راہ بناتے تھے گیتوں میں کچھ اور نہ ہو اک کیفیت سی رہتی تھی جب بھی مصرعے رقصاں ہوتے معنی ساز بجاتے تھے دوہے کہنے اور پڑھنے کا ایسا طرز نکالا تھا سننے والے سر دھنتے تھے اور پہروں پڑھواتے تھے سامنے بیٹھی سندر ناریں آپ طلب بن جاتی تھیں پردوں میں سے فرمائش کے سو سو پرچے آتے تھے ''غزلیں دوہے گیت'' کی شہرت ملک سے باہر پھیلی تھی ہندوستاں سے آنے والے تحفوں میں لے جاتے تھے اہل ہنر کی خوشہ چینی ان کو وجہ سعادت تھی بے ہنروں میں اپنی انا کا پرچم بھی لہراتے تھے پھر دیکھا کہ بچہ بچہ ہنستا تھا اور عالیؔ جی فردیں لکھتے مسلیں پڑھتے بیٹھے گلڈ چلاتے تھے

— جمیل الدین عالی